نُورِ ہدایت — Page 1132
خدا ہے۔يُخْرِجُ الْحَقَّ مِنَ الْمَيِّتِ۔اسی طرح وہ مردوں سے زندگی نکالتا ہے۔لیکن اس حالت سے بے خبر نہ رہنا کہ یہی مضمون برعکس صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الحتی۔اور زندگی سے موت بھی نکلتی رہتی ہے۔زندوں سے مردہ بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اور زندگی میں بھی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔چونکہ فلق کے دونوں پہلو سامنے ہیں اس لئے جب بھی انسان کے لئے ترقیات کی نئی راہیں کھلیں ، نئی صبحیں نمودار ہوں ، انسانی کوششوں اور محنتوں کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو اور وہ کوششیں پھوٹ کر کونپلوں میں تبدیل ہو رہی ہوں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں فخر کا کوئی مقام نہیں۔بے فکر ہونے کی کوئی بات نہیں۔ایسے جشن منانے کی کوئی ضرورت نہیں جو سطحی اور دنیا کے جشن ہوں۔کیونکہ حقیقت میں ہر زندگی کے ساتھ ایک موت بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ہر روشنی کے ساتھ کچھ اندھیرے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر اپنے رب کے حضور جھکنا چاہئے جو خالق ہے، جس نے خیر وشر کا یہ نظام پیدا فرمایا ہے۔اور اس سے یہ عرض کرنی چاہئے کہ اے اللہ! ہمیں اس زندگی کے نئے دور میں اس طرح داخل فرما کہ اس کے ہر شر سے محفوظ رکھنا اور ہر خیر اور برکت ہمارے پہلے میں ڈال دینا۔یہ ہے وہ مضمون جس کو بھلانے کے نتیجہ میں فتوحات کے وقت فخر پیدا ہو جاتے ہیں۔ادنی ادنی نعمتوں کے حصول کے وقت انسان اپنی عاقبت سے بے نیا ز اور بے فکر ہوجاتا ہے۔زندگی کے ایک پہلو کو حاصل کر کے زندگی کے دوسرے پہلو سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔نعمت کے طور پر اسے تھوڑی سی چیز ملے تو اس نعمت کے نتیجہ میں وہ خود مالک بن بیٹھتا ہے اور خدا سے غافل ہو جاتا ہے۔نتیجہ اس شر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے جو نعمت کے ساتھ ملحق ہوتا ہے۔اگر نعمت کا صحیح استعمال ہو تو انسان شر سے بچ جاتا ہے۔اگر غلط استعمال ہوتو شر اس کے بعد لازماً اس کے تعاقب میں آتا ہے۔چنانچہ یہی وہ مضمون ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں یوں بیان فرمایا ہے۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُ 1132