نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 106 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 106

سے بدل گیا ہے۔اس لفظ کے معنی بقیہ کے ہیں۔عرب کہتے ہیں هُوَ في أشار الناس یعنی وہ قوم کے بقیہ لوگوں میں سے ہے ( الجامع لاحکام القرآن للقرطبی) (6) ایسی شے جو پوری اور مکمل ہو۔عرب جوان تندرست اونٹنی کو سورۃ کہتے ہیں۔سُورَة کی جمع سور ہے یعنی سورتیں۔قرآن کریم کے بعض ٹکڑوں کو سُورۃ کیوں کہتے ہیں؟ اس کے متعلق مختلف علماء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ ان کے پڑھنے سے انسان کا درجہ بڑھتا ہے۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ اس سے بزرگی حاصل ہوتی ہے۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ سورتیں مضامین کے ختم ہونے کا نشان ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ وہ ایک بلند اور خوبصورت روحانی عمارت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ وہ سارے قرآن کا بقیہ یا حصہ ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ ان کے اندر ایک مکمل اور پورا مضمون آ جاتا ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ یہ اختلاف صرف ذوقی ہے ور نہ سورۃ کے چھ معنی جو بیان ہوئے ہیں وہ چھ کے چھ ہی اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے معین ٹکڑوں کو سورۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ (1) قرآن کریم کا حصہ ہیں (2) اور ان میں سے ہر اک میں ایک مکمل اور پورا مضمون بیان ہوا ہے(3) وہ بلند اور خوبصورت روحانی تعمیر پر مشتمل ہیں جن میں داخل ہونے والا (4) اعلیٰ مرتبہ اور (5) بزرگی پاتا ہے اور (6) ان پر عمل کرنے والے کو دوسرے لوگوں کے مقابل پر ایک خاص امتیاز حاصل ہو جاتا ہے۔سورۃ کا لفظ خود قرآن کریم نے استعمال فرمایا ہے اور الہامی نام ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ لفظ استعمال فرماتے تھے۔سُوْرَةُ الفَاتِحَه قرآن کریم کے ابتدا میں رکھی ہوئی اس مختصر سی سورۃ کا نام فاتحۃ الکتاب ہے جو مختصر ہو کر سورۃ الفاتحہ بن گیا ہے۔اردو دان لوگوں نے آگے اسے فارسی اسلوب پر سورۃ فاتحہ بنا دیا ہے۔اس 106