نُورِ ہدایت — Page 1126
تڑوادیں۔(3) میں پناہ چاہتا ہوں اُن نفوس کے شر سے جو اتحاد کو برباد کرائیں اور مسلمانوں کی حکومتوں کو تباہ کرائیں۔العقد کے معنے ہیں الْوَلَايَةُ عَلَى الْبَلَدِ یعنی حکومت یا گورنری۔اور اسی طرح سے اس کے معنے الْبَيْعَةُ لِلْمُلَاةِ کے بھی ہیں۔یعنی حُكّام اور خلفاء کی بیعت۔اور نَفْتُ فِي الْعُقَدِ ایک محاورہ ہے جس کے معنے تعلقات قطع کروانے کے ہیں۔۔۔- پس وَ مِنْ شَيْرِ التَّفتِ فِي الْعُقَدِ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کرنی چاہئے جو تعلقات بیعت کو تڑ وادیں اور مسلمانوں کے اتحاد میں رخنہ پیدا کردیں۔نفت کے معنے لکھنے کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے النفقت کے ایک معنے لکھنے والے نفوس یا گروہوں کے بھی ہوں گے۔گویا ان معنوں کے اعتبار سے مِنْ شَيْرِ التَّقْفَتِ فِي الْعُقَدِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں بڑی کثرت سے ایسالر یچر شائع کیا جائے گا جو خدا اور اس کے رسول کے خلاف ہو گا اور جس کی وجہ سے دنیا میں بڑا بھاری شر اور فتنہ پیدا ہو جائے گا۔اس فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ وہ آخری زمانہ جس میں بڑی کثرت سے خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لٹریچر شائع کیا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے شر سے ہمیں بچائے اور ہمیں اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ضمنی طور پر اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ آخری زمانہ میں ایسا لٹریچر شائع کیا جائے گا جس میں حکومت اور رعایا کے تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی جائے گی۔وَ مِنْ غَيْرِ التَّقْفتِ فِي الْعُقَدِ میں زندگی کے درمیانی عرصہ میں جو خرابیاں پیش آجایا کرتی ہیں، ان سے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات 1126