نُورِ ہدایت — Page 1120
ہو جاؤں۔۔۔۔دودھ سے مراد قرآنی تعلیم ہے جو فطرتِ صحیحہ کے مطابق ہے۔پس قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں بتایا کہ مسلمانوں کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قرآنی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق دے اور وہ اس تعلیم کی حفاظت کرتے رہیں۔اور ایسا نہ ہو کہ کسی وقت اس پر عمل کو چھوڑ کر اس شخص کی طرح ہو جائیں جس کے پاس تھوڑا سا دودھ رہ جاتا ہے۔دنیا میں جب کوئی شخص امیر ہونے کے بعد پھر غریب ہوتا ہے تو اُسے بہت تکلیف ہوتی ہے اور اس کی زندگی اس کے لئے دوبھر ہو جاتی ہے۔پس انفرادی لحاظ سے بھی اس میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ ایسانہ ہو وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں اور جن کے ذریعہ سے وہ آرام و اطمینان کی زندگی بسر کر رہا ہے وہ ہمتیں ہاتھ سے جاتی رہیں اور اس کی زندگی کے دن مشکل سے کٹیں۔پھر اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایسا نہ ہو اسلام کے غلبہ کی وجہ سے جو مسلمانوں کو رفاہیت حاصل ہے وہ کسی وقت مسلمانوں کی حکومت کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے تکلیف میں بدل جائے اور مسلمان کڑھتے رہیں۔بلکہ اگر کوئی ایسا وقت آئے تو اللہ تعالیٰ خود دستگیری کرے اور پھر سے سامان پیدا کر دے کہ مسلمانوں کی کمزوری طاقت سے اور ضعف کے دن شوکت سے بدل جائیں۔ساتویں معنے الفلق کے الْأَنْهَارُ کے بھی ہیں۔اور ربُّ الفلق کے معنے ہوں گے دریاؤں کا رب۔اس لحاظ سے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ کہو میں انہار یعنی دریاؤں کے پیدا کرنے والے رب کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ ان کے ذریعہ سے مجھے یا میری قوم کو کوئی شر نہ پہنچ جائے۔یہ ظاہر ہے کہ دریاؤں کے ذریعہ سے ملک سیراب ہوتے ہیں اور ان پر ملکوں کی خوراک کا انحصار ہوتا ہے۔اگر صحیح رنگ میں ان سے پانی ملتار ہے، دریاؤں سے نہریں نکالی جائیں اور ان نہروں سے زمینوں کو سیراب کیا جائے تو وہ ملک کے لئے مفید ہوتے ہیں۔لیکن اگر دریاؤں میں طغیانی آجائے تو نہ صرف یہ کہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں بلکہ لوگ بھی ڈوب کر مر جاتے 1120