نُورِ ہدایت — Page 1117
گا۔ان سب کے تعلق ٹوٹ کر اب خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو گیا۔اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی حقیقت تم پر اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک کہ تم لوگوں کو اس پر گواہ نہ بنالو اور جو انسان اس مقام پر کھڑا ہو وہ کس طرح اطمینان کا سانس لے سکتا ہے جب تک وہ اپنے عمل سے اس دعویٰ کی تصدیق نہ کر دے۔م مومن خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والا ہوتا ہے۔اور جب وہ لوگوں کے سامنے کہتا ہے کہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔میں رَبُّ الفَلَق کی پناہ میں آتا ہوں تو پھر وہ بندوں کی طرف نگاہ نہیں کر سکتا بلکہ خدا تعالیٰ پر ہی یقین رکھتا ہے۔تیسرے معنے فلقی کے جہنم کے ہیں۔ان معنوں کے اعتبار سے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں جہنم کے پیدا کرنے والے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔اور ان شدائد سے بھی جو اس جہنم میں پیدا کئے گئے ہیں۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل کر کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر کے تمہیں انفرادی اور اجتماعی طور پر جنت میں داخل کر دیا ہے۔كُنْتُمْ عَلى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا - تم آگ کے کنارے پر تھے تم کو نکال کر جنت میں داخل کر دیا۔اللہ نے تمہیں ذہنی اور قلبی سکون عطا کیا۔تم ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے تم میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا وہ اعلیٰ مقام پیدا ہو گیا کہ تمہارے لئے یہ دنیا جنت بن گئی۔تم کو خدا تعالیٰ میں گیا اور تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو گیا۔پس ان نعمتوں کو یا درکھو اور جہنم کے رب کی پناہ میں آؤ اور اس کے شدائد سے بچنے کے لئے بھی اس کی پناہ چاہوتا کہ جہنم کبھی تمہارے قریب نہ آئے۔یعنی ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ تمہارا انفرادی اور قومی اطمینان ختم ہو جائے۔تمہارے اندر لڑائی جھگڑے پیدا ہو جائیں۔تم قرآن کریم کی تعلیم کو چھوڑ دو اور یہ دنیا بھی تمہارے لئے جہنم بن جائے اور آخرت میں بھی جہنم دیکھنا پڑے۔1117