نُورِ ہدایت — Page 1077
طرف رجوع کرتے ہیں اور وہ ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے اور خوارق میں سے آپ کی دعاؤں کی قبولیت ہے جس میں مقابلہ کے واسطے تمام جہان کے عیسائیوں، آر یوں وغیرہ کو بارہا چیلنج دیا جا چکا ہے مگر کسی کی طاقت نہیں کہ اس مقابلہ میں کھڑا ہو سکے۔(ماخوذ از حقائق الفرقان زیر تفسیر سورۃ الاخلاص ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ اخلاص مگی بھی ہے اور مدنی بھی۔اس سورۃ کا نزول دومرتبہ ہوا۔ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں۔اس سورۃ کے متعدد نام مختلف تفاسیر میں مروی ہیں۔اور یہ ناموں کی کثرت اس کے کثرت مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔چنانچہ وہ نام یہ ہیں:۔1 ـ سورة التفرید۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے اور فرد ہونے اور تثلیث وغیرہ کی تردید اس سورۃ میں کی گئی ہے۔2۔سورۃ التجرید۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لاثانی ہونے کا اس میں بیان ہے۔3۔سورۃ التوحید - کیونکہ توحید کا ایسا واضح بیان کسی دوسری کتاب میں نہیں ہے۔4۔سورۃ الاخلاص۔کیونکہ یہ انسان کے اندر اخلاص پیدا کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق جوڑتی ہے۔5۔سورۃ النجاۃ۔کیونکہ اس بات پر پورا یقین رکھنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتا ہے۔6۔سورۃ الولایۃ۔کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنچا دیتی ہے۔7- سورة المعرفة - کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسی کلام کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز پڑھتے ہوئے سورۃ الاخلاص 1077