نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1078 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1078

کی تلاوت کی تو رسول کریم علااللہ نے اس سورۃ کو سن کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنے رب کی معرفت حاصل کرلی۔8 - سورة الجمال - حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَال کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم علیم سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا جمال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا آحد صَمَد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ہونا۔9- سورة المُقشقشة مُقشقشہ کے معنے ہیں بری کرنے والی۔جب کوئی بیمار شفا پاتا ہے تو اہل عرب کہتے ہیں تَفَشَّقَشَ الْمَرِيضُ عما ہے۔یعنی بیمار نے اپنی اس بیماری سے شفا پائی جس میں مبتلا تھا۔چونکہ یہ سورۃ شرک اور نفاق سے انسان کو بری کر کے خدا تعالیٰ کا خالص بندہ بنادیتی ہے اس واسطے اس سورۃ کا نام مقشقشة رکھا گیا ہے۔10۔سورۃ المعوذہ۔کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ملایم حضرت عثمان بن - مظعون کے پاس تشریف لے گئے اور قُل هُوَ الله احد اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اُن پر پھونکا۔اور ان کو یہ ہدایت کی کہ ان سورتوں کے ذریعہ اللہ تعالی کی پناہ حاصل کیا کریں۔11 - سورة الصمد - کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت صمد کا ذکر آتا ہے جس میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اس کا محتاج ہے۔12 - سورة الاساس رسول کریم عالم نے فرمایا ہے کہ أُيْسَتِ السَّموتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُونَ السَّبْعُ عَلَى قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ یعنی ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کا قیام قُلْ هُوَ الله احد کی وجہ سے ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تثلیث کا عقیدہ آسمانوں اوز مین کی بربادی کا موجب ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُ الْجِبَالُ۔قریب ہے کہ آسمان اس گندے عقیدہ کی وجہ سے پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ گر کر ریزہ ریزہ ہوجائیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الهَهُ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا (الانبیاء (23) که اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جا تا گویا توحید کا 1078