نُورِ ہدایت — Page 1061
اقوام جو آخری زمانہ میں پیدا ہوں گی اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو تباہ کرے گا۔اتب کے معنے برباد ہونے اور بلاک ہونے کے ہیں۔اور جب کسی کا مقصد حاصل نہ ہو۔اس وقت بھی تب کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔مفسرین نے تبت کے معنے صَفِرَتْ مِنْ كل خیر کے بھی کئے ہیں۔یعنی ہر قسم کی خیر و برکت سے خالی رہنا۔دید کے معنے ہاتھ کے بھی ہیں اور عزت ورتبہ۔قوت و طاقت اور غلبہ و بادشاہت کے بھی ہیں۔اسی طرح کیک کا لفظ جماعت پر بھی بولا جاتا ہے۔پس تبت یدا ابی لَهَبٍ کے معنے ہوں گے۔1۔ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو گئے۔2۔ابولہب کے دونوں جتھے برباد ہو گئے اور ان کو اُن کا مقصد حاصل نہ ہوا۔3۔ابولہب کی عزتیں ، قو تیں، بادشاہت اور غلبہ سب ختم ہو گئے۔4۔ابولہب کے ساتھ تعلق رکھنے والی دونوں جماعتیں ہر قسم کے نفع اور خیر سے محروم رہیں۔ابولہب کے لفظی معنے ہیں شعلے کا باپ۔لیکن محاورے میں اس کے معنے ہوں گے وہ وجود جو ایسی چیزوں کا موجد ہو جن سے شعلے اور آگ پیدا ہو۔یاوہ وجود جس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا۔مفسرین کہتے ہیں کہ لفظ ابو لہب سے چہرے کا سرخ و سفید رنگ بھی مراد ہوسکتا ہے۔علی سورۃ مثبت میں ابولہب سے مراد کوئی ایک شخص نہیں بلکہ اس سے مراد وہ قوم ہے جو آخری زمانہ میں دنیا پر غلبہ حاصل کر کے رسول کریم علی ایم کے خلاف یا اسلام کے خلاف آگ بھڑکائے گی۔یا وہ ایسی ایجادیں کرے گی جس سے شعلے اور آگ پیدا ہو۔اور پھر یہ قوم اپنی ہمسایہ قوموں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر اپنے جتھہ کو مضبوط کرے گی اور یہ قومیں اس کے ہاتھ کی مانند ہوں گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں دو ہی جتھے ایسے ہیں جو کہ اسلام یا رسول کریم علیم کے خلاف متحد ہیں۔ایک جتھے بعض مغربی طاقتوں پر مشتمل ہے اور ایک جتھے بعض مشرقی طاقتوں 1061