نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1053 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1053

سورت ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موذی دشمنوں پر دلالت کرتی ہے ایسا ہی بطور اشارۃ النص اسلام کے مسیح موعود کے ایذا دہندہ دشمنوں پر اس کی دلالت ہے۔۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تبت يدا أبي لَهَبٍ جو قرآن شریف کے آخر میں ہے آیت مَغْضُوبِ علیہم کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں۔(تحفہ گولڑ و یه ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 215 تا 217) سورة تبت کی پہلی آیت یعنی تبت يدا أبي لَهَبٍ و تب اس موذی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمدی یعنی احمد مہدی کا مکفر اور مکذب اور مہین ہوگا۔تحفہ گولڑو یہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 214، 215) وعاغَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورة تبت یدا ابی لَهَبٍ ہے۔(تحفہ گولڑ و بیه، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 218) ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتَبَّ - ( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 159) خدا تعالیٰ نے جابجا قرآن شریف میں عظیم الشان پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتَبَّ - ( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 170) سورة تَبَّتْ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 8 مورخہ 28 فروری 1902 ، صفحہ 4) ( تبت يدا أبي لهب خواب میں پڑھنے کی تعبیر کے متعلق فرمایا ) 1053