نُورِ ہدایت — Page 1033
داخل ہوں گے اور خدا کی طرف سے فتح آئے گی اور خدا کی طرف سے نصرت ملے گی۔اس مضمون میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف خوشخبری دی بلکہ بعض ایسی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جن کی طرف عام طور پر انسان توجہ نہیں کیا کرتا۔جب بھی کسی کو فتح ملتی ہے، جب بھی کسی کو نصرت عطا ہوتی ہے دماغ میں ایک کیڑا آ جاتا ہے کہ یہ میری کوشش سے ہوا ہے، میری چالاکیوں سے ہوا ہے، میرے علم سے ایسا ہوا ہے، میں نے کیسی اچھی تنظیم کی تھی، کیسی اچھی تدبیر کی تھی ، کیسا اچھا لیکچر دیا تھا، کیسی اچھی کوشش کی تھی۔انسانی نفس انسان کو اس قسم کے تو ہمات میں مبتلا کرتارہتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ نصرت اور فتح تمہاری کوشش سے ہوگی۔تم اپنی کوشش سے تو دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے تم اس لائق نہیں ہو تم اس قابل نہیں ہو کہ عظیم الشان کام کر سکو اور دلوں میں ایک انقلاب بر پا کرسکو۔یہ خدا کا کام ہے اس لئے اللہ کی نصرت آئے گی، اللہ کی طرف سے فتح آئے گی اور یہ خدا ہی ہے جولوگوں کو فوج در فوج اسلام میں داخل کرے گا۔فرماتا ہے : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ توابا جب خدا کی طرف سے فتح و نصرت عطا ہو تو اس وقت تمہیں چاہئے کہ خدا کی تسبیح کرو اور اس سے استغفار کرو۔بظاہر تو اس کا فتح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فتح کے وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ شادیانے بجاؤ ، اچھلو اور کو دو اور جشن مناؤ لیکن خدا تعالیٰ نے ان چیزوں میں سے کسی کا ذکر فرمایا۔بلکہ فرمایا جب خدا کی طرف سے نصرت آئے اور فتح ملے۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرُہ۔تو خدا تعالیٰ کی تسبیح بھی کرنا۔اس کی حمد کے ترانے بھی گانا۔اور استغفار بھی کرنا۔تاکہ تمہارے نفس میں انانیت کا اگر کوئی ادنی سا بھی کیڑا پیدا ہو تو وہ کچلا جائے ، تمہاری توجہ اس طرف پھر جائے کہ جس ہستی نے یہ نصرت عطا کی ہے میں اس کی حمد کے گیت گاؤں، جس نے ہمیں یہ فتح نصیب فرمائی ہے اس کی تسبیح کروں تسبیح وتحمید اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس فتح کا فائدہ کوئی نہیں ہو سکتا جو فتح دین کی فتح ہوا کرتی ہے۔اگر آپ تسبیح اور نہیں 1033