نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1028 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1028

لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (احزاب (22) کہ اے مسلمانو! اس رسول میں تمہارے لئے ایک نیک نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو اور اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات و سکنات کی پیروی کرو۔کیونکہ آپ کے اقوال و افعال خدا تعالیٰ کے اقوال و افعال ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے آپ کے متعلق مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رلى (انفال (18) کہہ کر آپ کے کنکر پھینکنے کو اللہ تعالیٰ کا کنکر پھینکنا قرار دیا ہے۔پھر آپ کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم (4-5) یعنی یہ نبی اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ وہی بات کہتا ہے جو خدا تعالیٰ اس کو بذریعہ وحی حکم دیتا ہے۔پس وہ شخص جس کی اتباع سے انسان خدا سے ملتا ہی نہیں بلکہ اس کا محبوب بن جاتا ہے۔اور وہ شخص جو دنیا کے لئے ایک نمونہ تھا اور جس کے اقوال و افعال خدا کے اقوال و افعال تھے اس کا استغفار ان معنوں میں نہیں ہو سکتا کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہو ا تھا اور اس نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس گناہ کی سزا سے بچالے۔کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ اگر وہ بھی گناہ کا مرتکب ہوسکتا تھا تو خدا تعالیٰ نے اس کی اشباع کا کیوں حکم دیا اور اُسے دُنیا کے لئے نمونہ کیوں قرار دیا؟ پس آپ ہر ایک بدی اور گناہ سے پاک تھے۔گویا آپ کا استغفار گناہوں کی سزا سے بچنے کے لئے نہ تھا بلکہ کسی اور معنے میں تھا۔ا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کون سے معنے ہیں جن کو ادا کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے؟ سو جاننا چاہئے کہ زیر تفسیر سورۃ کی ابتدائی دو آیات میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مسلمانوں کی نصرت کا سلسلہ جاری رہے گا اور فتوحات کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔اور قومیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح برکت پائیں گی جس طرح آپ کی زندگی میں لوگوں نے برکت پائی تھی۔گویا ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا یا گیا تھا کہ آئندہ زمانہ میں 1028