نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1006 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1006

بظاہر اس میں ایک مضمون کو دو دفعہ دہرا دیا گیا ہے۔ایک حصہ کو تو الفاظ میں تغیر قلیل کر کے دہرایا گیا ہے اور دوسرے حصہ کو جوں کا توں دُہرا دیا گیا ہے۔قرآن کریم میں تو تکرار نہیں ہوا کرتی۔پھر ایسا کیوں کیا گیا؟ چونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں فضول تکرار نہیں ہوسکتا۔اور چونکہ ما کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔موصولہ کے بھی اور مصدریہ کے بھی۔اللہ تعالیٰ نے وسعت معانی پیدا کرنے کے لئے آیتوں کے پہلے جوڑے میں ماموصولہ استعمال کیا ہے اور دوسرے جوڑے میں مصدر یہ تو تکرار کا سوال اُڑ جاتا ہے۔اس کے مطابق آیات کے یہ معنے ہو جاتے ہیں کہ میں کبھی عبادت نہ کروں گا اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم کبھی عبادت کرو گے ، نہ کر سکتے ہو اُس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔اور اسی طرح میں عبادت نہیں کروں گا یا عبادت نہیں کرسکتا اُس طریق پر جس طریق پر تم عبادت کرتے ہو۔اور نہ تم عبادت کرو گے یا کر سکتے ہو اس طریق پر جس طریق پر میں عبادت کرتا ہوں۔ان معنوں کے رُو سے سب تکرار مٹ جاتی ہے اور ہر ہر لفظ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور اس کی واضح غرض اور مقصد نظر آتا ہے۔جہاں تک تاریخی واقعات کا سوال ہے۔یہ تو درست ہے کہ نہ صحابہؓ نے کبھی بتوں کی پوجا کی اور نہ کبھی کفار کے طریق عبادت کو اختیار کیا۔مگر دوسرا حصہ تاریخی شواہد کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ہزار با کفار نے ایمان لا کر خدائے واحد کی بھی عبادت کی اور مسلمانوں کے طریق عبادت کو بھی اختیار کیا۔پس بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مضمون غلط ہو گیا۔پس لازماً ان آیات میں کسی اور مضمون کا ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں اور مشرکوں کی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمان فطرۃ توحید کی طرف مائل ہے اور کافر نے ایک لمبی رسم و عادت کی وجہ سے مشرکانہ فطرت پالی ہے۔اس لئے وہ اپنی عادت اور رسم کی وجہ سے شرک کی طرف تو مائل ہوسکتا ہے۔لیکن تو حید کی طرف نہیں جاسکتا۔پس در حقیقت وَلا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ میں یہ پیشگوئی تھی کہ مکہ والے رسول کریم 1006