نُورِ ہدایت — Page 1005
چلتا۔لیکن جبکہ قرآن کی وحی میں یہ لفظ شامل کر دیا گیا تو اب اس کے متواتر تا قیامت جاری رہنے کی صورت پیدا ہو گئی۔جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ قُل يا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ تو کافروں کو مخاطب کر کے کہہ دے کہ اے کا فرو! میں تمہارے معبود کی عبادت قطعاً نہیں کرتا اور نہیں کر سکتا۔تو آپ نے یہ اعلان کافروں میں کر دیا۔مگر قل کا لفظ پہلے نہ ہوتا تو مسلمان سمجھتے یہ محمد رسول اللہ کا کام تھا ختم ہو گیا۔لیکن جب آپ نے اپنی وحی مسلمانوں کوشنائی اور یوں پڑھا قُل يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ تو ہر مسلمان نے سمجھ لیا کہ یہ حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے نہ تھا بلکہ میرے لئے بھی تھا کیونکہ میرے سامنے جب وحی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے تو اس کے پہلے قُل کہا ہے جس کا مخاطب میں ہی ہو سکتا ہوں، محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نہیں۔کیونکہ وہ تو پڑھ رہے ہیں۔سُن تو میں رہا ہوں۔پس اُس نے اس حکم کی تعمیل میں یہ پیغام آگے پہنچادیا۔لیکن چونکہ قُل کا لفظ وحی میں تھا اُس نے بھی اگلے شخص کے سامنے اسی طرح پیغام پہنچادیا کہ قتل کا لفظ بھی دہرایا اور اس تیسرے شخص کے سامنے جب قُل کا لفظ کہا گیا تو اُس نے سمجھ لیا کہ صرف مجھے پیغام نہیں پہنچایا گیا بلکہ مجھ سے یہ بھی خواہش کی گئی ہے کہ میں آگے دوسروں تک یہ پیغام پہنچا دوں۔پھر اس تیسرے آدمی نے چوتھے کو جب پیغام دیا تو پھر قُل کہا کیونکہ وحی کا حصہ ہے اسے چھوڑ انہیں جاسکتا۔اس لفظ کے سننے سے پانچویں نے بھی سمجھ لیا کہ میں نے ہی اس حکم پر عمل نہیں کرنا بلکہ دوسروں تک بھی ی حکم پہنچانا ہے۔غرض اس طرح تا قیامت اس حکم کے دہرانے کا انتظام کردیا گیا۔اس سورۃ میں ایک مضمون کو دو شکلوں میں ادا کیا گیا ہے۔اور دودفعہ دہرایا گیا ہے۔ایک حصہ مضمون کا یہ ہے کہ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ۔جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کی میں عبادت نہیں کرتا۔اور دوسرا حصہ اس کا یہ ہے کہ وَلا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔اور تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ وَلَا انا عبد ما عبدتم نہ میں اس کی عبادت کرتا ہوں جس کی تم عبادت کر چکے ہو۔اور چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ وَلا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَا اعْبُدُ نہ تم عبادت کرتے ہو یا کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔1005