نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1004 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1004

منطبق ہوتا ہے۔کیونکہ اول تو اسلام کے سوا کوئی مذہب دنیا میں ہے ہی نہیں جو تو حید کامل کو پیش کرتا ہو۔اگر ظاہری رنگ میں توحید کسی مذہب میں پائی بھی جاتی ہے تو وہ مذہب بھی صفات الہیہ کے بیان کرنے میں قرآن کریم سے بہت اختلاف رکھتا ہے۔قل کا لفظ اعلان کے لئے آیا ہے یعنی اس سورۃ کے مضمون کا خوب اعلان کر۔یوں تو سب سورتوں کا مضمون اعلان کے قابل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (مائده (68) اے رسول جو کلام قرآنی تجھ پر نازل ہوتا ہے وہ سب کا سب لوگوں تک پہنچا دے۔پس قرآن کا کوئی حصّہ چھپانے والا نہیں لیکن بعض مضمون وقت کے لحاظ سے خوب پھیلانے والا ہوتا ہے اس لئے اُس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جاتی ہے۔چنانچہ پانچ سورتیں قرآن کریم کی ایسی ہیں جن کے شروع میں قُل کے لفظ آتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ اُن کے مضمون کا خوب اچھی طرح اعلان کر دو۔یہ سورتیں سورہ جن۔سورۃ کافرون۔سورۃ اخلاص۔سورہ فلق اور سورہ الناس ہیں۔ان سورتوں کے علاوہ کم و بیش تین سو چھ آیتوں سے پہلے بھی یہ لفظ آتا ہے اور جہاں بھی آتا ہے مابعد کے مضمون کی اہمیت بتانے کے لئے آتا ہے۔قرآن کریم کی آخری تین سورتوں سے پہلے اس لفظ کا استعمال بھی یہی بتاتا ہے کہ چونکہ قرآن کریم ختم ہو رہا تھا اس کا خلاصہ آخر میں پیش کر دیا گیا اور ان سورتوں کے مضمون کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دلا دی تا کہ خلاصہ کے ذریعہ سے سارے مضمون سے اجمالا لوگ واقف ہوجائیں۔قل کا لفظ ان مضامین یا سورتوں سے پہلے آتا ہے جن کے اعلانِ عام کا ارشاد ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کسی امر کا اعلان عام ایک آدمی نہیں کرسکتا۔ایسے اعلان کا ذریعہ ایک جماعت ہی ہو سکتی ہے جو نسلاً بعد نسل یہ کام کرتی چلی جائے تا کہ ہر قوم و ملک کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے۔اور ہر نسل اور ہر زمانہ کے لوگوں کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے۔اگر وحی متلو میں یعنی قرآن میں قتل کا لفظ نہ رکھا جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حکم چلتا۔آپ کے بعد یہ حکم نہ 1004