نُورِ ہدایت — Page 1003
باوجود اس کے کہ تشد د اور زبردستی سے اس زمانہ میں اسلام بالکل کام نہیں لے گا پھر بھی وہ کفر پر غالب آ جائے گا اور انسانوں کے دل کفر و الحاد سے پاک ہو کر پھر اسلام کی طرف راغب ہو جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ تو ہر زمانہ کے لوگوں سے یہ کہہ دے یہ ایک واضح اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ ہر زمانہ میں دنیا میں ظاہر ہوتی رہے گی۔کبھی چھوٹے پیمانہ پر کبھی بڑے پیمانہ پر۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ ان اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمِّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِ مِائَةِ سَنَةٍ مَن يُجيدُ لَهَا دِينَهَا (ابو داؤد كتاب الملاحم) یعنی اللہ تعالیٰ میری اُمت میں ہر سو سال کے بعد کوئی نہ کوئی شخص ایسا مبعوث کرے گا جو اس صدی کی غلطیوں کو جو کہ دین کے بارہ میں لوگوں کو لگ گئی ہوں گی دُور کر دے گا۔یہ قُل بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔گویا اس حدیث کے مطابق رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کم سے کم ہر صدی کے سر پر دنیا میں ظاہر ہوں گے اور وہ لوگ جو آپ کے بتائے ہوئے رستہ کے خلاف چلنے والے ہوں گے اُن کو چیلنج کریں گے کہ میں تمہارے طریق کو کبھی اختیار نہیں کروں گا جو خدا نے مجھے بتایا ہے اور اس طرح اسلام ہر زمانہ میں ڈھل ڈھلا کر پھر نیا بن جایا کرے گا۔مسیح اور مہدی کے زمانہ میں یہ بات زیادہ نمایاں طور پر ہونے والی ہے کیونکہ اس زمانہ کے متعلق بہت بڑے فتنوں کی پیشگوئی ہے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَا بُعِتَ نَبِي إِلَّا وَقَدْ انْذَرَ أُمَّتَهُ الدجال (كتاب الملاحم لابی داؤد باب خروج الدجال یعنی جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے تمام انبیاء نے دجال کے فتنہ سے اپنی امت کو ڈرایا ہے۔اس آیت میں جو یہ امر بیان کیا گیا ہے کہ نہ تم میرے طریق پر عبادت کرو گے۔نہ میں تمہارے طریق پر عبادت کروں گا۔یا یہ کہ نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے۔نہ میں تمہارے معبود کی عبادت کروں گا جیسے مشرکین مکہ پر منطبق ہوتا ہے ویسے ہی باقی دنیا کے کفار پر بھی 1003