نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1002 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1002

اور مرکزی تعلیم کو پیش کیا گیا ہے اور اس پر مخالفت کے باوجود مستقل رہنے کی ہدایت کی گئی ہے دور جو شخص بھی مخالفانہ ماحول میں اپنے خیالات پر قائم رہنے کی جرات دکھائے گالازمنا وہ اپنی اور اپنی قوم کی عزت قائم کر دے گا۔اور یہ جو فرمایا کہ اس سے تمہارا زادراہ بڑھ جائے گا۔اس میں بھی درحقیقت اسی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص دوسروں کے آگے سرنگوں ہونے سے انکار کر دے گا اسے یہ کبھی خیال نہیں آئے گا کہ کوئی میری خبر گیری کرے گا اور میری مدد کرے گا اور جب وہ لوگوں کی امداد کے خیال سے اپنے خیالات کو آزاد کر لے گا تو لازمتا وہ حلال روزی اور باعزت روزی کے لئے کوشش بھی کرے گا۔حمد اصمعی کہتے ہیں کہ پہلے زمانہ کے لوگ ( یعنی تابعی اور صحابہ ) کہا کرتے تھے کہ سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص مُقشقشتان ہیں (یعنی یہ سورتیں نفاق سے بچانے والی ہیں اور قوت ایمانیہ پیدا کرنے والی ہیں) اور ابو عبیدہ کہتے تھے کہ جس طرح رال کھجلی کو دور کر کے تندرست کر دیتی ہے۔اسی طرح یہ سورتیں انسان کو شرک سے صحت بخشتی ہیں۔(قرطبی) اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ میں کفر پھر اسلام پر غالب آ جائے گا اور جہاں تک مادی حالات کا سوال ہے اسلام قریباً قریب ختم ہو جائے گا۔لیکن اس وقت پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی روح دوبارہ دنیا میں کسی اپنے مثیل اور شاگرد کے ذریعہ سے ظاہر ہوگی اور دنیا کو پھر وہی چیلنج دے گی جو پہلے آپ نے دیا تھا اور کہے گی کہ خواہ کتنا زور لگالو میں کفر سے مغلوب نہیں ہوں گا اور کفر کی باتوں کو تسلیم نہیں کروں گا۔یہ وہی زمانہ ہے جس کو مہدی یا مسیح کا زمانہ کہا جاتا ہے اور جس وقت دجال یا یا جوج و ماجوج نے یعنی عیسائیت کے مذہبی اور سیاسی ظہور نے اسلام پر غلبہ پانا تھا اور بظاہر اسلام کی شان و شوکت کو مٹا کر عیسائیت کی حکومت کو مستحکم طور پر قائم کر دینا تھا۔یہ سورۃ بتاتی ہے کہ جہاں عام طور پر مسلمان مغربی خیالات سے متاثر ہو کر اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے وہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح غیر اسلامی خیالات کے آگے ہتھیار ڈالنے سے گلی طور پر انکار کر دے گی اور 1002