نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 979 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 979

کرنا کہ یہاں لوگ آئیں گے اور حج بیت اللہ کریں گے اور پھر لوگوں کا وہاں آنا اور حج بیت اللہ کرنا اور ایک غیر آباد مقام کا آباد ہو کر ایک بہت بڑا شہر بن جانا بتاتا ہے کہ جو کچھ ہوا رب البیت کی طرف سے ہوا۔اس کے مقابلہ میں اتفاقی طور پر اگر کسی مندر کو شہرت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ ہر گز اس مندر کے کسی بت کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔کیونکہ کب اس مندر کی عظمت کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی۔کب یہ کہا گیا تھا کہ اس کی لوگوں میں شہرت ہو جائے گی اور کب کسی قوم اور مذہب نے اس دعوی کی سچائی پر اپنی عزت اور اپنی سچائی کی بازی لگائی تھی۔پس اسے اگر شہرت حاصل ہوئی ہے تو محض اتفاقی طور پر۔جیسے لنڈن ایک بہت بڑا شہر بن گیا۔مگر اس کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں تھی۔نیو یارک ایک بہت بڑا شہر بن گیا مگر اس کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں تھی۔بے شک وہ بہت بڑے شہر ہیں مگر ان کی ترقی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔لیکن اگر لنڈن سے پچاسویں حصہ کے برابر بھی کوئی شہر اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آباد ہوتا ہے تو ہم اسے اللہ تعالیٰ کا نشان قرار دیں گے۔پس کسی مندر کی مقبولیت اور خانہ کعبہ کی مقبولیت میں بڑا بھاری فرق ہے۔خانہ کعبہ کی مقبولیت خدائی پیشگوئیوں کے مطابق ہوتی ہے لیکن مندروں کی مقبولیت محض ایک اتفاقی امر ہے۔جس طرح سونے کے مقابلہ میں ملمع ہوتا ہے اسی طرح خانہ کعبہ کی عظمت کے مقابلہ میں کسی مندر کی عظمت یا اس کی ترقی بھی ایک ملمع سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَأَمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ اس آیت نے اس مضمون کو بالکل واضح کر دیا ہے جس پر میں شروع سے زور دیتا چلا آرہا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ یہاں اصل ذکر خدا کی خدائی اور اس کی طاقت وقوت اور اس کے فضل اور احسان کا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے رِحْلةَ الشَّتَاءِ والصيف کی محبت پیدا کی اور وہ خدا ہی ہے جس نے انہیں سفر کی سہولتیں مہیا کر کے عزت 979