نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 962 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 962

تمہاری کسی نیکی یا تمہاری کسی خوبی کی وجہ سے ہے۔جیسے یہود میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ خدا کے محبوب اور پیارے ہیں اس لئے ان سے نیک سلوک کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ انہیں صرف چند دن سزا ملے گی۔بعض کا یہ خیال تھا کہ ان کو صرف چالیس دن تک سزا ملے گی اور بعض کا یہ خیال تھا کہ انہیں بارہ دن سزا ملے گی۔پھر بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ انہیں صرف سات دن سزا ملے گی اور بعض خیال کرتے تھے کہ یہودی جب دوزخ کے پاس لے جائے جائیں گے تو وہ خدا سے کہیں گے کہ اس تعلق کو یاد کر جو تجھے ہمارے باپ ابراہیم سے تھا۔اس پر خدا انہیں فور اواپس لوٹا دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔اسی قسم کا خیال عربوں میں بھی پیدا ہوسکتا تھا کہ چونکہ ہم ابراہیم کی نسل میں سے ہیں اس لئے ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔پس اس آیت میں اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔م در حقیقت ہر قوم جب بداعمالی کی طرف راغب ہوتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتی ہے تو وہ چاہتی ہے کہ کسی ٹوٹکہ کے ذریعہ سے ہی نجات حاصل کر لے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِإِيلافِ قُرَيْشٍ - الفِهِمُ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَيْتِ (قریش (2-4) ان کو یا درکھنا چاہئے کہ ہم نے ان پر جو احسان کیا ہے یہ خانہ کعبہ کی وجہ سے کیا ہے۔ان کی ذات کی وجہ سے نہیں کیا۔ابراہیم کی نسل ہونے کی وجہ سے ہم ان پر یہ فضل نہیں کر رہے تھے بلکہ اس لئے کر رہے تھے کہ اگر انہیں کھانے پینے کو با فراغت مل جائے گا تو وہ خدا کا ذکر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنے اوقات بسر کریں گے تاکہ آنے والے موعود پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوتے رہیں۔پس لا یلف کا تعلق اگر فَلْيَعْبُدُوا سے سمجھا جائے تو اس امر پر زور ثابت ہوگا کہ قومی برتری کوئی چیز نہیں۔ان کا یہ خیال کہ یہ سب کچھ ہماری خاطر ہو رہا ہے بالکل غلط ہے۔یہ خانہ کعبہ کی خاطر، خانہ کعبہ کے نبی کی خاطر اور ذکر الہی کو قائم رکھنے کی خاطر ہو رہا ہے۔962