نُورِ ہدایت — Page 89
تھی۔پس یہ جودُعا کی جاتی ہے کہ اے خداوند وہ راہ ہمیں دکھا جس سے ہم بھی اُس نعمت کے وارث ہو جائیں اس کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ ہمیں بھی شرف مکالمہ اور مخاطبہ بخش۔بعض جاہل اس جگہ کہتے ہیں کہ اس دُعا کے صرف یہ معنے ہیں کہ ہمارے ایمان قوی کر اور اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرما اور وہ کام ہم سے کرا جس سے تو راضی ہو جائے۔مگر یہ نادان نہیں جانتے کہ ایمان کا قومی ہونا یا اعمالِ صالحہ کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق قدم اٹھانا یہ تمام باتیں معرفت کاملہ کا نتیجہ ہیں۔جس دل کو خدا تعالیٰ کی معرفت میں سے کچھ حصہ نہیں ملا وہ دل ایمان قوی اور اعمالِ صالحہ سے بھی بے نصیب ہے۔معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے۔اور معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت دل میں جوش مارتی ہے۔۔۔۔۔اب چونکہ تمام مدار خوف اور محبت کا معرفت پر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف بھی پورے طور پر اس وقت انسان جُھک سکتا ہے جب کہ اس کی معرفت ہو۔اوّل اُس کے وجود کا پتہ لگے اور پھر اس کی خوبیاں اور اُس کی کامل قدرتیں ظاہر ہوں اور اس قسم کی معرفت کب میٹر آ سکتی ہے بجز اس کے کہ کسی کو خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور پھر اعلام الہی سے اس بات پر یقین آ جائے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا قادر ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔سو اصلی نعمت ( جس پر قوت ایمان اور اعمال صالحہ موقوف ہیں ) خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کے ذریعہ سے اول اُس کا پتہ لگتا ہے اور پھر اس کی قدرتوں سے اطلاع ملتی ہے اور پھر اس اطلاع کے موافق انسان ان قدرتوں کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے۔یہی وہ نعمت ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھی اور پھر اس اُمت کو حکم ہوا کہ اس نعمت کو تم مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں بھی دوں گا۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ یہی تو ایک جڑ ہے معرفت کی اور تمام برکات کا سر چشمہ ہے اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو سعادت کے تمام دروازے بند ہوتے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم جلد 21 صفحہ 307 تا309) یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیر افضل اور انعام ہوا۔اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہی فضل اور انعام جو تمام نبیوں اور صد یقوں پر 89