نُورِ ہدایت — Page 955
عرصہ تک بھوکے مرتے چلے جاتے تو تنگ آکر وہ مکہ چھوڑ دیتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں مکہ میں رکھنے کے لئے یہ تدبیر سجھادی ور نہ دنیا کی تاریخ پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ہا قو میں دنیا میں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنی معاشی ضرورت کے لئے جگہیں بدلی ہیں۔غرض کچھ لوگ مکہ والوں میں سے سفروں پر جاتے تھے اور کمائی کر کے لاتے تھے اور باقی لوگ مکہ میں رہتے۔مکہ میں رہنے والوں کی وجہ سے اللہ تعالی قافلہ والوں کے کام میں بھی برکت پیدا کر دیتا اور اس طرح ان کا بھی گزارہ ہوجاتا اور مکہ والے بھی پلتے رہتے۔بہر حال مکہ والوں کا اکثر حصہ وہیں مکہ میں رہتا تھا۔صرف ایک حصہ تجارت کرتا اور وہ جو کچھ کما کر لاتا وہ مگہ والوں میں بانٹ دیتا۔یہ چیز کوئی معمولی چیز نہیں۔دنیا میں اس کی کتنی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اگر محض ایک انسانی تدبیر تھی تو دیکھنا یہ چاہئے کہ دنیا میں اور کہاں کہاں اس طریق پر عمل ہوتا ہے۔یقینا دنیا کی اور کسی قوم نے وہ مثال قائم نہیں کی جو مکہ کے یہ لوگ قائم کر چکے ہیں۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو جب وقف کی تحریک کی جاتی ہے تو ان میں سے کتنے نکلتے ہیں۔دعویٰ یہ ہے کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ والی جماعت ہم ہی ہیں، دعویٰ یہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کی جماعت ہیں۔مگر ان میں سے کتنے دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتے ہیں۔دوسروں کے کام کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ معمولی بات ہے اور چیز ہے۔اور حقیقت کو مدنظر رکھنا اور بات ہے۔کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مکہ والوں نے جو کچھ کیا وہ ایک معمولی بات ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ آج بھی اس مثال پر کتنے لوگ عمل کر سکتے ہیں یا کتنے لوگ عمل کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کام کرنا اور چیز ہے اور یہ کہ دینا کہ ایسا کام تو ہر شخص کرسکتا ہے اور بات ہے۔اگر یہ ایسی ہی آسان بات ہے تو دنیا میں اور کسی نے وہ کیوں نہ کر لیا جومکہ والوں نے کیا تھا۔کیا دنیا کے پردہ پر آج کوئی شہر، کوئی قصبہ اور کوئی بستی ایسی ہے جس میں یہ طریق رائج ہو کہ چند لوگ روزی کما کر لاتے ہوں اور پھر شہر والوں کو کھلا دیتے ہوں اور ان سے کہتے 955