نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 954 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 954

اس طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان دونوں سفروں کو قائم رکھنا چاہتا تھا۔ان معنوں کے رُو سے خدا تعالیٰ کا زور دونوں سفروں کے قیام پر ہے۔یعنی دونوں سفروں کا قیام الہی سکیموں کا ایک حصہ تھا۔اور چونکہ الہی حکمت چاہتی تھی کہ یہ دونوں سفر قائم رہیں اس لئے اس نے ابرہہ کے لشکر تباہ کر دیا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اسی لئے تباہ کیا۔بلکہ اس لئے“ کے معنے ہیں۔اور اس لئے اور اسی لئے میں فرق ہوتا ہے۔اسی لئے کے معنے ہوتے ہیں کہ یہی اصل مقصد تھا۔مگر اس لئے کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مختلف وجوہ میں سے یہ بھی ایک وجہ تھی۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس تباہی کے کئی اسباب تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔پس یہاں ہم اس لئے کہیں گے نہ کہ اسی لئے“۔میں نے بتایا ہے کہ ان کے سردی گرمی کے سفروں کے قیام کی بڑی وجہ یہ تھی کہ رسول کریم عالم کے آنے کی پیشگوئیاں یہودیوں اور عیسائیوں میں تو محفوظ تھیں لیکن حضرت ابراہیم کی پیشگوئیاں مکہ میں محفوظ نہیں تھیں۔مکہ والے امتداد زمانہ کی وجہ سے ان پیشگوئیوں کا اکثر حصہ بھول چکے تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ ان کو وہ پیشگوئیاں دوسری قوموں کے ذریعہ سے یاد کروائی جائیں۔دوسرے معنے اس کے یہ بنیں گے کہ اس امر پر تعجب کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سردی گرمی کے سفر پر تیار کر دیا۔یعنی ان لوگوں کے دلوں میں سفر کی محبت پیدا کر دی۔ان معنوں کے رُو سے ایک دوسرے معنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔بے شک ان معنوں سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کو سردی گرمی کے سفر پر تیار کر دیا اور اس طرح یہ محمدی دین کی طرف مائل ہو گئے۔مگر ایک اور حکمت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ باشم نے کہا تھا کہ اگر تم سفروں کے لئے نہ نکلے تو تم بھوکے مرو گے اور دوسری قوموں میں ذلیل ہو جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس سردی گرمی کے سفر کی دراصل ہم نے تدبیر کی تھی۔اگر یہ سفر نہ ہوتا تو ان میں ایمان تو تھا ہی نہیں صرف قومی رسم و رواج کی وجہ سے وہ وہاں ٹھہرئے ہوئے تھے۔ممکن تھا کہ اگر وہ اسی طرح ایک لمبے 954