نُورِ ہدایت — Page 945
ان کا یہ بھی طریق تھا کہ جب قافلہ واپس آتا تو ہر آدمی جس کا اس تجارت میں حصہ ہوتا تھا وہ اپنا آدھا حصہ غرباء کے لئے نکال دیتا تھا۔مثلاً ایک شخص کو دوسورو پی نفع حاصل ہوا تو سوروپیہ وہ خود رکھ لیتا تھا اور سو روپیہ قومی فنڈ میں دے دیتا تھا۔اس طرح غرباء کے گزارہ کے لئے ایک کافی رقم نکل آتی تھی۔فرض کرو ایک دفعہ قافلہ گیا اور اسے ایک لاکھ روپیہ نفع حاصل ہوا تو پچاس ہزار روپیہ اسی وقت غرباء میں تقسیم کرنے کے لئے علیحدہ کر لیا جاتا تھا۔اس طرح ایک قلیل مدت میں غرباء کی حالت بھی بہت بہتر ہو گئی۔چنانچہ ایک عرب شاعر مکہ والوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مکہ کے لوگ ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے مالک ہیں کہ وہ اپنا آدھا مال غرباء میں بانٹ دیتے ہیں اور اس طرح ان کے غریب بھی امیر کے برابر ہو جاتے ہیں۔یہ تو ایک مبالغہ ہے کیونکہ سارے مکہ میں زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس مالدار ہوں گے اور سارے شہر کی آبادی پندرہ بیس ہزار ہو گی۔وہ اپنا نصف نصف مال تقسیم بھی کریں تو بہت تھوڑا رو پیدلوگوں کو مل سکتا تھا۔لیکن بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان سفروں کے نتیجہ میں ان کی حالت اچھی ہو گئی اور وہ موت جو محض فاقوں کی وجہ سے ان پر آرہی تھی اس سے انہوں نے نجات حاصل کر لی۔اس کے بعد قریش اس طریق پر برابر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ اسلام آگیا اور مکہ والے باقی سارے عرب سے زیادہ امیر ہو گئے اور دوسروں سے زیادہ معزز بھی ہو گئے۔ان مذکورہ بالا واقعات سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ایک تو یہ کہ بنو اسمعیل وعدہ ابراہیمی کی پابندی کرتے ہوئے مکہ میں بیٹھ نہیں رہے بلکہ شروع میں ہی وہ مکہ چھوڑ کر ادھر اُدھر پھیل گئے تھے۔قصی بن کلاب نے تحریک کر کے دوبارہ انہیں مکہ میں بسایا۔پس جولوگ ان کے کہنے پر مکہ میں آبسے ان کو قریش کہا جانے لگا۔یعنی وہ لوگ جو پہلے بکھرے ہوئے تھے مگر پھر قصٹی کی تحریک پر دوبارہ مکہ میں جمع ہوئے۔دوسری بات ان واقعات سے یہ کھلتی ہے کہ مکہ میں بسنے کی وجہ سے یہ لوگ غریب ہو گئے 945