نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 944 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 944

ایک کورئیس بنا دیا جاتا۔اور باقی لوگ اہل مکہ کی طرف سے نمائندہ بن کر اس سفر پر روانہ ہو جاتے۔اُمراء جن کی حالت کچھ اچھی تھی وہ بعض دفعہ تجارت کی غرض سے اپنے غلام بھی ان سفروں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ان کا طریق تجارت یہ تھا کہ وہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت ایسی چیزیں اپنے ساتھ لے لیتے تھے جو ان کی نظروں میں متبرک ہوتی تھیں اور جہاں جہاں عرب قبائل میں سے گزرتے وہاں مکہ کے تبرکات انہیں دیتے جاتے۔مثلاً آب زمزم کے کچھ مشکیزے بھر کر اپنے ساتھ رکھ لیتے۔چونکہ عرب قبائل کو خانہ کعبہ سے بہت عقیدت تھی اس لئے جب انہیں گھر بیٹھے آب زمزم میسر آجاتا یا اسی طرح کی بعض اور چیزیں مل جاتیں تو وہ بہت خوش ہوتے اور قریش کو نہایت ادب اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔اسی طرح اور بھی کئی چیزیں وہ اپنے ساتھ رکھ لیتے تھے۔مثلاً مکہ میں لوہارے کا کام اچھا ہوتا ہے وہ لوہے کی تیار شدہ چیزیں لے لیتے۔اسی طرح کھجور میں اپنے ساتھ رکھ لیتے اور یہ سب چیزیں رستہ میں فروخت کرتے جاتے۔پھر جہاں عرب قبائل میں ٹھہرتے اور دیکھتے کہ وہاں کوئی چیز ایسی ہے جو شام میں اچھے داموں پر فروخت کی جاسکتی ہے تو وہ ان قبائل سے ایسی چیزیں خود خرید لیتے اور شام میں جا کر فروخت کر دیتے۔پھر جب شام سے آتے تو وہاں سے دو قسم کا مال خرید لیتے۔کچھ تو مکہ والوں کے لئے اور کچھ راستہ میں آنے والے عرب قبائل میں فروخت کرنے کے لئے۔اس طرح ان کو نفع بھی حاصل ہوتا اور شام اور دوسرے عرب علاقوں کا مال بھی مکہ میں آجا تا۔اسی طرح سردیوں میں وہ یمن کا سفر کیا کرتے تھے۔مگہ اور یمن کے درمیان بھی بڑا لمبا فاصلہ تھا اور اس راستہ پر بھی مختلف عرب قبائل آباد تھے۔اس سفر میں بھی وہ تمام لوگوں کو مکہ کے تحائف دیتے اور ان سے عمدہ عمدہ چیزیں خریدتے ہوئے یمن پہنچ جاتے اور یمن میں تمام مال فروخت کر کے وہاں کی مصنوعات اور غلہ وغیرہ کچھ مکہ والوں کے لئے اور کچھ رستہ کے عرب قبائل میں فروخت کرنے کے لئے لے آتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں ہی مکہ کی دولت سارے عرب سے زیادہ ہوگئی۔944