نُورِ ہدایت — Page 943
دنیا میں قائم ہو اور دوسرے عرب قبائل سے ہماری حالت اچھی ہو۔مکہ والوں نے باشم کی بات سن کر کہا آپ جو تدبیر بتائیں ہم اسے ماننے کے لئے تیار ہیں۔آپ نے فرمایا میری تجویز تو یہ ہے کہ ہم لوگ رہیں تو مکہ میں ہی مگر اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لئے تجارت شروع کر دیں۔یوں بھی اپنی ذاتی اغراض کے لئے ہم بعض دفعہ سفر کر لیتے ہیں۔اگر آئندہ ہم بعض سفر محض تجارت کی خاطر کریں تو اس سے ہماری گری ہوئی حالت بہت کچھ سدھر جائے گی اور ہماری پریشانی دور ہو جائے گی۔زراعت کی تجویز آپ نے اس لئے نہ کی کہ مکہ میں زراعت کی کوئی صورت نہیں تھی۔دوکانداری کی تجویز آپ نے اس لئے نہ کی کہ دوکاندار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ رات دن دوکان پر بیٹھا رہے۔آپ نے سمجھا کہ اگر لوگوں نے دوکانداری شروع کر دی تو خدمت کعبہ کا وہ موقع جو اب انہیں مل رہا ہے اس سے وہ محروم ہو جائیں گے۔چنانچہ آپ نے یہ تجویز کی کہ قوم کا روپیہ لے کر ہر سال دو سفر کئے جائیں۔ایک سفر سردی کے موسم میں کیا جائے جو یمن کی طرف ہو اور ایک سفر گرمی کے موسم میں کیا جائے جو شام کی طرف ہو۔شام بوجہ سرد مقام ہونے کے گرمی کے سفر کے لئے موزوں تھا اور یمن بوجه گرم مقام ہونے کے سردی کے سفر کے لئے موزوں تھا۔آپ نے تجویز کیا کہ ہر سال اہل مکہ کے نمائندہ قافلے یہ دو سفر محض تجارت کی غرض سے کیا کریں اور تجارت بھی قوم کے لئے کریں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاشم بن عبد مناف نے دنیا میں یا کم سے کم عرب میں سب سے پہلے کمپنی سسٹم جاری کیا ہے۔یوں تو تاجر دنیا میں ہمیشہ تجارت کیا ہی کرتے ہیں۔زید تجارت کی غرض سے باہر جاتا اور سودا لے کر آجاتا ہے تو پھر اسے زیادہ مہنگے داموں پر وہ فروخت کر دیتا ہے۔مگر یہ کہ سفر کسی فرد کا نہ ہو بلکہ قومی طور پر تمام قبیلہ کا مشترکہ سرمایہ لے کر سفر کیا جائے اس کی ابتدا کم سے کم عرب میں ہاشم بن عبد مناف سے ہی ہوئی ہے۔لوگوں نے کہا بہت اچھا ہمیں منظور ہے۔چنانچہ قافلے جانے لگے۔جب بھی کوئی قافلہ جاتا تو ہر شخص دس بیس پچاس یا سو روپیہ جتنا دینا چاہتا قافلہ والوں کے سپرد کر دیتا۔پھر ان میں سے۔943