نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 917 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 917

اور تدبیر سے بھی کام لیتے ہیں۔گویا تقدیر اور تدبیر کا ایک لطیف امتزاج ان دونوں کے لئے ہوتا ہے۔غرض مومن کامل جو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اس کے کاموں میں تقدیر کا پہلو غالب ہوتا ہے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ سے دُور چلا جاتا ہے اس کے کاموں میں تدبیر کا پہلو غالب ہوتا ہے اور جو درمیانی درجہ کا آدمی ہوتا ہے اس کے کاموں میں تقدیر اور تدبیر دونوں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ مضمون ہے جس کو بسم اللہ ظاہر کرتی ہے اور چونکہ ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ آتی ہے۔اس لئے جب انسان بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو وہ اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ جو کچھ آگے مضمون بیان ہو رہا ہے اس سے میں اپنے ایمان اور عرفان کے لحاظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر وہ اعلیٰ درجے کا ایمان رکھنے والا ہے تو وہ اس سے ایسا فائدہ اٹھاتا ہے کہ وہ سورۃ اس کے لئے ویسی ہی بن جاتی ہے جیسے محمد رسول اللہ علی تعلیم کے لئے نازل ہوئی تھی۔اور اگر وہ دشمنی کرتا ہے تو کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ساری کی ساری سورۃ بیکار اور رائیگاں چلی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس کے حق میں ضائع ہو جاتی ہے۔اور اگر وہ درمیانی درجہ کا مومن ہو تو سورۃ کا مضمون صرف ایک حد تک اسے فائدہ بخشتا ہے، پورا فائدہ نہیں دیتا۔الَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيْلِ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی (استعمال کرنے ) والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔الم تر اصل میں الم تری ہے۔آخر جب فعل مضارع پر آتا ہے تو اگر اس کے آخر میں یاء ہو تو وہ گر جاتی ہے۔اسی وجہ سے الخ تری کی بجائے صرف آلخ تر رہ گیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کیا تو نے دیکھا نہیں۔یہاں دیکھنے سے دل کی آنکھوں سے دیکھنا اور بصیرت کی راہ سے دیکھنا مراد ہے۔آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جس واقعہ کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے وہ 917