نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 900 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 900

کی تصدیق اس دنیا میں نہیں ہو سکتی۔جیسے اب تک بھی یورپین مصنف یہی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے اگلے جہان کے عذابوں سے ڈرا ڈرا کرلوگوں کو مسلمان کر لیا۔یہی عرب لوگ کہتے تھے کہ قرآن کریم ایسے عذابوں کی خبر دیتا ہے جو اس جہان سے تعلق نہیں رکھتے وہ صرف ایسے عذابوں کا ذکر کرتا ہے جو اگلے جہان سے تعلق رکھتے ہیں اور اگلا جہان ہم نہیں مانتے۔پھر ہم ان باتوں کو کس طرح درست تسلیم کرلیں۔اس کے جواب کے لئے قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ جہاں وہ کسی اخروی عذاب یا انعام کا ذکر کرتا ہے وہاں کسی نہ کسی دنیوی عذاب یا انعام کا ضرور ذ کر کرتا ہے، یہ بتانے کے لئے کہ تم اُخروی عذاب یا انعام یا نتیجہ کے متعلق تو کہہ سکتے ہو کہ ہم ان باتوں کو کس طرح مان لیں یہ تو اگلے جہان سے تعلق رکھتی ہیں۔مگر تم دنیوی امور کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتے اس لئے ہم اُخروی عذابوں یا انعاموں کے ذکر کے ساتھ ہی بعض دنیوی امور سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو موجودہ حالات میں بالکل ناممکن نظر آتی ہیں۔اگر یہ ناممکن نظر آنے والی باتیں ممکن ہو جائیں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ باتیں پوری ہو جائیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس خدا نے ان غیر ممکنات کو ممکنات کی صورت دے دی ہے وہ اُخروی عذابوں کو بھی اسی رنگ میں پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم کا یہ ایک عام قانون ہے کہ وہ اُخروی اور دنیوی عذابوں اور انعاموں کو آپس میں ملا کر بیان کرتا ہے تا کہ وہ دنیوی عذاب اور انعام اُخروی عذابوں اور انعاموں کی صداقت پر گواہ ہوں اور کفار ان کے انکار کی جرات نہ کر سکیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفیل کو کفار کے اس اعتراض کے جواب میں بیان کیا ہے کہ اگلے جہان کے عذابوں کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں یہ بات عقل کے خلاف اور ناممکن نظر آتی ہے مگر ایسی ہی ناممکن بات اصحاب الفیل کی بربادی کی بھی تھی۔ان کا حملہ ایسے رنگ میں ہوا اور ایسے حالات میں ہوا اور عربوں کا دفاع اتنا کمزور پڑ گیا اور انہوں 900