نُورِ ہدایت — Page 884
میں رافت نہ ہو اور رحمت نہ ہو وہ یقیناً بلاک ہو جاتی ہے۔اس میں کسی نبی کے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پس اگر تم میری باتوں کو تسلیم نہ کرتے صرف اپنے اندر علم الیقین پیدا کر لیتے تب بھی تم دیکھ سکتے تھے کہ جہنم تمہارے سامنے کھڑی ہے۔تم دیکھتے کہ ہم قوم کو تعلیم نہیں دے رہے تم دیکھتے کہ ہم قوم سے انصاف نہیں کر رہے۔تم دیکھتے کہ ہم میں دیانت کی روح موجود نہیں۔تم دیکھتے کہ ہم میں امانت کی روح موجود نہیں۔تم دیکھتے کہ ہم میں تقویٰ کی روح موجود نہیں۔اگر تم دیکھتے کہ ہم میں عدل و انصاف کی روح موجود نہیں۔اسی طرح تم دیکھتے کہ ہم روپیہ کو صیح طور پر خرچ نہیں کر رہے۔ہم اپنے باپ دادوں کی جائیدادوں کو عیاشی میں برباد کر رہے ہیں۔اگر تم ان باتوں پر ذرا بھی غور کرتے تو لتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ تم جہنم کو سامنے کھڑا پاتے۔یعنی تم میری باتوں کو بے شک جھوٹ سمجھ لولیکن اگر تم اپنے حالات پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے تو تم دیکھ سکتے تھے کہ جہنم تمہارے سامنے موجود ہے۔لتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ قسم محذوف کا جواب ہے کیونکہ جیم دیکھنا کفار کے علم یقین کے ساتھ لازم نہیں ہے۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ رؤیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔رؤیت عقلی ، رؤیت عینی اور رؤیت مشاہدہ علم الیقین کے بدلہ میں بھی ایک رؤیت حاصل ہوتی ہے جو رؤیت علمی ہوتی ہے۔جب کسی شخص کو بہ دلائل کسی آنے والی مصیبت کا علم ہو جاتا ہے تو اس علم کے مطابق اس کے قلب کو اس مصیبت کے متعلق تکلیف بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی معنے مراد لیے ہیں اور فرمایا ہے کہ اس سورۃ میں علم کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں۔علم الیقین اور جو علم اس کے بعد آتا ہے یعنی عین الیقین۔یقین کی ایک تیسری قسم بھی آپ نے بیان کی ہے یعنی حق الیقین جس کا ذکر سورۃ الحاقہ میں ان الفاظ میں ہے کہ وَإِنَّهُ لَحَق الْيَقِينِ (الحاقة (52) پس اس جگہ رؤیت سے مراد رویت عقلی یا رویت علمی ہے۔884