نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 882 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 882

دنیا میں بھی اپنی ان حرکات کا انجام معلوم ہو جائے گا اور آخرت میں بھی تم عذاب الہی میں مبتلا کیے جاؤ گے۔كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ۔(حقیقت تمہارے خیالات کے مطابق ہر گز نہیں ہے ) کاش تم علم یقینی کے ساتھ ( حقیقت کو) جانتے ( تو تم کو معلوم ہو جاتا کہ ) تم ضرور جہنم کو ( اسی دنیا میں ) دیکھو گے ( بلکہ ) پھر تم اسے یقین کی آنکھ سے ( آخرت میں) بھی دیکھ لو گے۔سابق مضمون کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ کفار مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم پھر کہتے ہیں کہ خبردار ہو جاؤ۔کیوں تمہیں پتہ نہیں لگتا کہ تم ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گر چکے ہو۔یہ بات تو بالکل قطعی اور یقینی ہے کہ تم مر چکے ہو۔زندگی کی کوئی علامت تم میں باقی نہیں رہی۔موت کے سب سامان تمہارے لیے پیدا ہو چکے ہیں۔خدا تعالیٰ کو تم بھلا چکے ہو بنی نوع انسان کے حقوق کو کلیت فراموش کر چکے ہو اور یہی دو چیزیں کسی قوم کی زندگی کی علامت ہوا کرتی ہیں۔قوم زندہ ہوتی ہے اسی طرح کہ خدا اُس قوم کے افراد کے دلوں میں زندہ ہوتا ہے۔جس قوم یا جس فرد کے دل میں اللہ تعالیٰ زندہ ہو وہ انسان زندہ کہلاتا ہے اور یا پھر بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ کسی انسان کے دل میں ہو تو وہ انسان زندہ ہوتا ہے۔مگر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ نہ تمہیں خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر کوئی یقین ہے، نہ بنی نوع انسان کی خدمت کا کوئی جذبہ تمہارے اندر پایا جاتا ہے۔کاش تمہیں علم الیقین ہی ہوتا تب بھی تم اس حقیقت کو بھانپ لیتے اور سمجھ لیتے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے۔یعنی جانے دو اس بات کو کہ ہم نے تمہاری ہلاکت کے متعلق پیشگوئی کی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔مگر دنیا میں ہر فعل کا ایک مادی نتیجہ بھی ہوتا ہے اور جب کوئی شخص کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرے اس فعل کا کیا نتیجہ نکلے گا تو کیا تم اس نقطہ نگاہ سے اپنی حالت پر غور نہیں کر سکتے۔882