نُورِ ہدایت — Page 881
سچی ہے اور زندگی کے آثار تم میں موجود نہیں رہے۔دیکھو اگر یہاں مقابر سے ظاہری قبریں مراد ہوتیں تو كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ کے کیا کوئی بھی معنے ہو سکتے تھے؟ کیا ابوجہل ، عتبہ اور شیبہ ی تسلیم نہیں کرتے تھے کہ ہم نے ایک دن مر جاتا ہے؟ جب وہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ انسان فانی ہے اور وہ تھوڑی سی عمر لے کر اس دنیا میں آیا ہے تو یہ کہنا کس قدر بے معنی ہو جاتا تھا کہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم نے ضرور مرنا ہے۔دیکھو ہم پھر تمہیں بتاتے ہیں کہ تم نے ضرور مرنا ہے۔اس صورت میں تو یہ ایک ہنسی کے قابل بات بن جاتی ہے کہ جس کو ہر فرد تسلیم کرتا ہے اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ دیکھو تمہیں اس کا عنقریب پتہ لگ جائے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ تمہیں اس کا عنقریب پتہ لگ جائے گا۔یہ الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ اس جگہ تباہی اور ذلت ورسوائی والی قبر ہی مراد ہے اور یہی وہ قبریں تھیں جن کا کفار مکہ کو بڑی سختی سے انکار تھا۔مٹی کی قبروں کو تو ابوجہل بھی تسلیم کرتا تھا مگر وہ اس بات کو ماننے کے لئے ہر گز تیار نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی بی ایم کے مقابلہ میں میں بار جاؤں گا۔رض كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ - ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔میں جو تکرا ر آیا ہے اس کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ تکرار تاکید مضمون کے لیے آیا ہے۔رسول کریم علیہ بھی خاص مواقع پر بات کو بار بار دہراتے تھے۔اس صورت میں ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ میں یہ محذوف سمجھا جائے گا کہ ثُمَّ أَقُولُ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔حضرت علیؓ کا قول ہے اس جگہ تکرار حصہ نہیں بلکہ چونکہ واقعہ مکث رہو گا اس لئے دو دفعہ بیان کیا ہے۔ان کے نزدیک پہلا تعلمون قبر کے متعلق ہے اور دوسرا نشر کے متعلق۔وہ فرماتے ہیں آلأَوَّلُ فِي الْقُبُورِ وَالثَّانِي فِي النُّشُورِ مگر میرے نزدیک اس جگہ یا تو تکرار تو کید ہے یا پہلا جملہ دنیا کے متعلق ہے اور دوسرا آخرت کے متعلق۔جیسے فرما يا مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آغمی (بنی اسرائیل 73) یعنی تمہیں 881