نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 880 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 880

پس تکاثر اور تفاخر کی ہر صورت ممنوع نہیں بلکہ صرف وہ تفاخر ممنوع ہے جوانسان کو مقابر کی طرف لے جاتا ہے۔یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ کے بعد زُرْتُمُ الْمَقَابِر کہا۔کیونکہ جسمانی موت تو خود آتی ہے لیکن یہ دینی یا اخلاقی یا قومی ہلاکت انسان خود بلاتا ہے اور اپنے قدموں چلتا ہوا اپنی قبر میں جا لیٹتا ہے۔اگر حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کی جگہ حتى متم فرماتا تو یہ مضمون ادا نہ ہو سکتا۔حَتَّی زُرتُمُ الْمَقَابِر کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مضمون میں ایک خاص شان اور جدت پیدا کرتے ہوئے بنی نوع انسان کو اس نہایت اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قومی تباہی کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ ناجائز تکاثر سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں اور وہ تمام نیک اخلاق جو انسان کی قومی اور مذہبی زندگی کا اصل باعث ہوتے ہیں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس روح مفاخرت کی وجہ سے قوم اپنے مقام سے گرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب موت اس پر پوری طرح سوار ہو جاتی ہے اور ترقی کی دوڑ میں ایک بے جان جسم سے بڑھ کر اس کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ( خوب یاد رکھو کہ تمہاری حالت ) اس طرح نہیں ( جس طرح تم سمجھتے ہو بلکہ ) تم لوگ ( قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کو جلد ہی جان لو گے پھر ( ہم کہتے ہیں کہ تمہاری حالت ) یوں نہیں ( جس طرح تم سمجھتے ہو ) تم عنقریب ہی ( اس بات کو ) جان لو گے۔لا ہمیشہ زجر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس جگہ بھی اہل مکہ کو خبر دار اور ہوشیار کرنے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ خبر دار تمہاری یہ حالت سخت خطرے والی ہے۔ہم نے جو کہا ہے کہ الْهَكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِر تمہیں تکاثر نے گراتے گراتے اس حالت تک پہنچادیا ہے کہ تم مقبرہ میں جا پہنچے ہو۔ہماری اس بات کی سچائی کو ابھی تم سمجھے نہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ یہ محض ایک بڑ ہے۔مگر یاد رکھو تھوڑے ہی دنوں تک تمہیں اچھی طرح پتہ لگ جائے گا کہ ہماری بات بالکل 880