نُورِ ہدایت — Page 871
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی کامیابی کے سامان مہیا کرتے ہیں۔پھر جب بھی کسی کو بڑائی حاصل ہوتی ہے ہمیشہ اضافی طور پر ہوتی ہے۔غیر اضافی طور پر ہمیں دنیا میں کوئی شخص بڑا نظر نہیں آتا۔پس جب بھی کوئی فخر کرتا ہے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں بہت لوگ گزر چکے ہیں اور وہ اپنے اپنے زمانوں میں بڑی شہرت کے مالک رہے ہیں میرے لئے فخر کا کونسا مقام ہے۔پس تکاثر سے کام لینے والا صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو نظر انداز نہیں کرتا ، اس کی ذات کو نظر انداز نہیں کرتا ، اس کے ملائکہ کو نظر انداز نہیں کرتا، بلکہ دنیاکے سابق علوم اور سابق ایجادات سے بھی انکار کر دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے باپ دادا تو محض جاہل تھے کمال صرف اسی کو حاصل ہوا ہے۔پس تکاثر کا ایک نتیجہ واقعات کے انکار کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔پھر اس کے نتیجہ میں تکبر بھی پیدا ہوتا ہے اور غرباء پر ظلم شرو ع ہو جاتا ہے۔بجائے اس کے کہ انسان کا ذہن اس طرف جائے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مال دیا ہے کہ میں غریبوں کی خدمت کروں اس کا ذہن اس طرف چلا جاتا ہے کہ میں بڑا ہوں۔میرا کام یہ ہے کہ میں دوسروں سے خدمت لوں اور دوسروں کا کام یہ ہے کہ وہ میری غلامی اختیار کریں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ تمام اخلاق فاضلہ اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو مجمل الفاظ میں بیان کیا اور انھی کے بعد عج کا ذکر نہیں کیا۔یعنی یہ بیان نہیں کیا کہ تمہیں تکاثر نے کس چیز سے غافل کر دیا ہے تا کہ تمام وہ چیزیں جن سے تکاثر نے غافل کر دیا یا جن سے تکاثر غافل کر سکتا ہے وہ ایک ایک کر کے انسان کے ذہن میں آجائیں اور وہ اس مضمون سے زیادہ سے زیادہ سبق حاصل کرے۔غرض اس ابہام میں یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ جتنی باتوں سے تکاثر انسان کو غافل کر دیا کرتا ہے وہ سب کی سب باتیں اس آیت میں شامل ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم کسی ایک نیکی سے نہیں بلکہ سب کی سب نیکیوں سے اس روح مفاخرت کی وجہ سے 871