نُورِ ہدایت — Page 854
بان رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا وحی کے معنے (1) کسی کام پر مبعوث کرنا (2) دل میں بات ڈالنا ( 3 ) اشارے سے بات سمجھانا (4) کسی پیغامبر کی معرفت پیغام بھیجنا (5) لکھنا (6) دوسروں سے چھپا کر بات کرنا اور (7) حکم دینا کے ہیں۔قرآن کریم میں وحی کا لفظ اس مقام کے سوا پینسٹھ دفعہ استعمال ہوا ہے اور سب جگہ الی کا صلہ آیا ہے۔پانچ مقامات اور ہیں جہاں یا تو یہ لفظ مجہولاً استعمال ہوا ہے یا حذف صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔حذف صلہ سے میری مراد یہ ہے کہ وہاں موحی الیہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس لئے ان مقامات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال ان سب استعمالات کی موجودگی میں جبکہ قرآن کریم میں پینسٹھ دفعہ یہ لفظ الیٰ کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور اس امر کو دیکھ کر احادیث میں بھی جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے الیٰ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔لام کا صلہ استعمال نہیں کیا گیا۔یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جگہ بھی تھا سے یہ مراد نہیں کہ زمین کی طرف وحی کی بلکہ لام کے معنی فی کے ہیں یعنی زمین کے حق میں وحی کی اور جس کی طرف وحی ہوئی اس کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔اگر زمین کی طرف وحی کرنا مراد ہوتا تو محاورۃ قرآن و محاورۂ حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جگہ اوحى إِلَيْهَا آتا، أوحى لھا نہ آتا۔یہ بات ہر شخص جو قرآن کو پڑھنے والا ہے جانتا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم علی الم پر نازل ہوا ہے اس لئے گو یہاں موحی الیہ محذوف ہے اور یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وحی کس کو ہوئی لیکن اس بات کا سمجھنا مشکل نہیں کہ اس جگہ رسول کریم ملی کا ہی ذکر کیا جارہا ہے اور بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا کے معنے یہ ہیں کہ أوحى الله إلى مُحَمد ﷺ لَهَا۔یعنی ان عظیم الشان تغیرات پر تمہیں کوئی استعجاب نہیں ہونا چاہئے۔یہ سب تغیرات اس لئے ہوں گے کہ اس کے ان تغیرات کے متعلق پہلے سے قرآن کریم میں پیشگوئی موجود ہوگی۔گویا یہ آیت زمانہ بعد نزول کے لوگوں کو مد نظر رکھ کر ہے۔پان ربَّكَ أوحى لَهَا اللہ تعالیٰ اس بارہ میں پہلے سے خبر دے چکا ہے اور اس نے کہہ دیا ہے کہ ایسا 854