نُورِ ہدایت — Page 847
کی سچی فرماں برداری کے نمونے سے ثابت کرو۔ٹھیک یاد رکھو۔کہ ہر نیک بیچ کے پھل نیک ہوتے ہیں۔بُرے بیج کا درخت بُرا پھل دے گا۔گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو (ماخوذ از حقائق الفرقان زیر سورۃ الزلزال ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں زلزال کے معنی بلانے خوف زدہ کرنے اور ہوشیار اور چوکس کرنے کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ جب سب کی سب زمین کو ہلا دیا جائے گا، خوف زدہ کیا جائے گا اور ہوشیار کیا جائے گا۔ان معنوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ لازماً نکلتا ہے کہ اس جگہ زمین کا لفظ زمین کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ اہل زمین بھی اس جگہ پر مراد ہیں۔۔۔اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب سب زمین بلائی جائے گی اور اہلِ زمین بھی بلائے جائیں گے ، خوف زدہ کئے جائیں گے اور ہوشیار کئے جائیں گے۔چنانچہ جس حد تک زمین کے بلانے کا سوال ہے یہی زمانہ ہے کہ جس میں ریلوں اور کارخانوں کی کثرت کی وجہ سے سرزمین کا نپتی رہتی ہے اور جہاں تک اہل زمین کا سوال ہے مقابلہ کا ایسا بازار گرم ہے کہ متمدن دنیا میں چلتا ہوا انسان نظر آنا مشکل ہے۔سب دوڑ رہے ہیں۔رات کو دنیا کی حالت کچھ ہوتی ہے تو صبح کو کچھ اور ہو جاتی ہے۔زمین رات اور دن چلنے والی ریلوں کی وجہ سے لرزہ براندم رہتی ہے اور دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جہاں ریلوں اور کارخانوں نے زمین کو جنبش نہیں دے رکھی۔کبھی کارخانوں کے علاقوں میں جاؤ یاریل کی پٹڑی کے پاس ریل کے گزرتے وقت گزرو تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک زلزلہ آیا ہوا ہے۔پھر لڑائی کے سامان ایسے ایجاد ہوئے ہیں کہ اُن سے زمین ہل رہی ہے۔جنگیں ایسی خطرناک صورت اختیار کرگئیں ہیں کہ شہروں کے شہر اُڑا دئیے جاتے ہیں اور زمین میں غار پڑ جاتے ہیں۔پھر زلازل بھی ابھی کلام کے ماتحت بکثرت آرہیں ہیں اور علاقوں کے علاقہ ان سے صاف ہو 847