نُورِ ہدایت — Page 77
کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہو کر آیا ہوں چاہو تو قبول کرو چاہو تو ر ڈ کرو۔( الحكم 10 ستمبر 1901 ، صفحہ 2، الحکم 17 ستمبر 1901 ، صفحہ 1-2) خلفائے موسیٰ کا سلسلہ ملِكِ يَوْمِ الدّین کے نکتہ پر ختم ہو گیا تھا۔چنانچہ اس سلسلہ کے آخر میں حضرت عیسی آئے اور ظلم و جور کو بغیر کسی لڑائی اور لڑنے والوں کے عدل و احسان سے بدل دیا گیا۔جیسا کہ الدین کے لفظ سے سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ لغت عرب اور اہلِ عرب کے سب ادیبوں کے نزدیک یہ لفظ بردباری اور نرمی کے معنوں میں آیا ہے۔پس ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موسی کلیم اللہ سے مماثلت اور خلفائے موسیٰ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء سے مشابہت نے چاہا کہ اس سلسلہ (محمدی) کے آخر میں بھی کوئی ایسا مرد کامل پیدا ہو جو حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل ہو اور وہ (لوگوں کو) نرمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے۔جنگ کو موقوف کرے، تباہی پھیلانے والی تلوار کو نیام میں کرے اور لوگوں کو تلوار اور نیزہ کی بجائے خدائے رحمان کے چمکتے ہوئے نشانوں سے ایک نئی زندگی عطا کرے۔پس اس کا زمانہ روز قیامت اور یوم جزا و حشر و نشر سے مشابہت رکھتا ہے۔اور وہ زمین کونُور سے بھر دے گا جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم اور جھوٹ سے بھری ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ وہ حقیقی یوم الجزاء سے پہلے لوگوں کو اس کا نمونہ دکھائے اور تقویٰ کے مرجانے کے بعد لوگوں کونئی زندگی بخشے اور یہی مسیح موعود کا زمانہ ہے۔اور وہ ( در حقیقت ) اس عاجز کا (ہی) زمانہ ہے۔اور اس کی طرف (اللہ تعالی نے ) آیت یوم الدین میں اشارہ کیا ہے پس تدبر کرنے والے اس بات میں تدبر کریں۔اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان صفات میں جو فضل و احسان کے مالک اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں ان میں خدا تعالٰی محسن حقیقی کی طرف سے ایک حقیقت مخفی ہے اور ایک پیشگوئی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان صفات کے بیان کرنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ اپنے رسول ( مقبول ) کو ان صفات کی حقیقت سے آگاہ کرے اور کئی قسم کی تائیدات کے ذریعہ ان کی 77