نُورِ ہدایت — Page 813
اقرار کر جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اس آیت کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ محمد رسول الله عالی لیلی کا ذکر پھیلنا شروع ہو جائے گا۔فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا پس ( یاد رکھو کہ ) اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی ( مقدر ) ہے (ہاں) یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک (اور بھی) بڑی کامیابی ( مقدر ) ہے۔عربی قواعد کی رُو سے تنوین ہمیشہ بڑائی اور عظمت کے اظہار کے لئے آتی ہے۔پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ہاں ہاں یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔گویا اصل مقصد تنگی کا ذکر کرنا نہیں بلکہ اصل مقصد یسر کی بڑائی اور اس کی اہمیت پر زور دینا ہے۔لیکن بعض نحوی کہتے ہیں کہ آیت میں بیشتر ا کا نکرہ کا استعمال اور پھر اس کا تکرار بتارہا ہے کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو ٹیسر مراد ہیں۔بے شک حسر ایک ہی ہے مگر ٹیسر دو ہیں۔ان کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک اور بھی بہت بڑی آسانی ہے۔گویا نکرہ کا تکرار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کیسر دو ہیں اور کیسر کی تنوین بتاتی ہے کہ ہر ٹیسر بہت بڑی شان کا ہے۔ان دوسرے معنوں کی احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ رسول کریم علی یہ ایک دفعہ ہنستے ہوئے اپنے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ عسر ٹیسر کے پیچھے دوڑا چلا جارہا ہے۔پھر آپ نے فرمایا ایک عسر دو ئیسر پر غالب نہیں آسکتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشفأ رسول کریم معلم کو اس آیت کا یہی مفہوم سمجھایا گیا ہے کہ ٹیسر دو ہیں اور غسر ایک ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دو ٹیسر کون سے ہیں جن کا اس آیت میں ذکر آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو پورے طور پر اسی وقت سکون حاصل ہوتا ہے جب ذہنی اور خارجی طور پر دونوں لحاظ سے اسے اطمینان کے سامان میسر ہوں۔813