نُورِ ہدایت — Page 812
پس وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكرك کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے تیرے ذکر کو اس قدر بلند کردیا ہے کہ ہر مجلس اور ہر نادیہ میں تیرا ذ کر ہونے لگا ہے۔لوگوں کی طبائع میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور ہو گئے ہیں کہ تیری طرف توجہ کریں۔اس کا نتیجہ تیرے حق میں لازماً اچھا ہوگا کیونکہ لوگ جب غور کریں گے تو ان پر تیری صداقت واضح ہو جائے گی۔اس آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ہم نے تیری قبولیت دنیا میں پھیلا دی ہے۔در حقیقت کامیابی کے ساتھ اس امر کا بھی تعلق ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں قبولیت کے آثار پیدا کر دئیے جائیں۔حدیثوں میں آتا ہے جب خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے تو اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو چن لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو اور لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کرو۔چنانچہ آہستہ آہستہ تمام دنیا میں اس کی قبولیت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ معنی بھی اس آیت کے ہیں۔فرماتا ہے که گو یہ لوگ تیری مخالفت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تیری بڑائی اور عظمت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جب وفات ہوئی تو کئی غیر احمدیوں اور ہندوؤں نے مضامین لکھے جن میں انہوں نے آپ کی بڑائی اور عظمت کا ذکر کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گو وہ ظاہر میں آپ کی مخالفت کرتے تھے مگر ان کے دل آپ کی عظمت کے قائل تھے۔یہ قبولیت اور عظمت کسی مفتری انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔پس فرماتا ہے دنیا میں مخالفتیں کرنے والے مخالفتیں کرتے ہیں مگر ان کی مخالفت کا پہلو یکطرفہ ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مخالفت کے ساتھ اس کی عظمت کے بھی قائل ہیں۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ یہ لوگ تیرے دشمن بھی ہیں اور تیری طاقت اور عظمت کے بھی قائل ہیں۔کہتے ہیں کہ تو بڑا جھوٹا ہے مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ تو بڑا امین ہے۔سنے والا سنتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔ایک کہتا ہے وہ شاعر تو ہے مگر شعر نہیں کہتا یا کا ہن تو ہے مگر کاہنوں کا دشمن ہے۔گویا جہاں وہ الزام لگاتے ہیں وہاں ساتھ ہی ایک رنگ میں عظمت اور نیکی کا بھی 812