نُورِ ہدایت — Page 67
افضل تر ہے بیان فرمایا۔الحکم جلد 4 نمبر 40 مؤرخہ 10 نومبر 1900 صفحہ 4) وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سر چشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوامگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔پس اُس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 440 تا442) خدا کا نام رب العلمین ہے۔رب کے معنے پرورش کرنے والے کے ہیں۔عالم روحانی و جسمانی کی وہی پرورش کرتا ہے۔اگر اس نے ایسے قومی انسان میں نہ رکھے ہوتے تو انسان ان انعامات سے کہاں متمتع ہو سکتا۔ایسا ہی روحانی ترقی بغیر اس کے فضل کے ناممکن ہے۔البدر نمبر 25 جلد 7 مؤرخہ 25 جون 1908 صفحہ 3) رَبُّ الْعَلَمِینَ کیسا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 42 حاشیہ) ملِكِ يَوْمِ الدین یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی 67