نُورِ ہدایت — Page 653
،، سال ایک بار دور کیا کرتے تھے۔سالِ وفات آپ نے دوبار دور کیا۔”س“ کے معنے ضرور بالضرور کے ہیں۔إِلَّا مَا شَاء الله کے تحت میں موجود قرآن شریف کے علاوہ جس قدر مختلف قراء تیں عرب کے لب ولہجہ کی وجہ سے تھیں سب نسيا منسيا ہو گئیں۔جو زیادہ تر مشہور قراءت تھی وہی متلور ہی۔قرآن شریف کے جمع کے متعلق صحابہ رضی اللہ عنہ کا فعل تھا۔شیعہ معترضین اس پر غور فرماویں۔ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے سلسلہ میں بتایا کہ ہم تجھے پڑھائیں گے اور تو کبھی نہیں بھولے گا۔جیسے پہلی آیتوں میں بتایا تھا کہ ہر شے کو اللہ تعالیٰ نے ایسے فطرتی قومی دیئے ہیں جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔ایسا ہی اس کو اس کے کمال مطلوبہ تک پہنچنے کا طریق بتایا ہے۔پس جس بانجود ہستی کو نور نبوت دیا جاتا ہے ضرور ہے کہ اس کے قویٰ میں بھی وہی قوت اور طاقت ہو اور اس بار نبوت کے اٹھانے کے لئے وہ ہمہ تن تیار ہو۔اور ہر قسم کی مشکلات جو اس راہ میں پیش آویں ان کے برداشت کرنے کا حوصلہ اور استقلال اس میں موجود ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بشارت دی جاتی ہے کہ تیرے آنے کی جو غرض دنیا میں ہے اس کے حسب حال آپ کو قومی دیتے ہیں اور اس کی تکمیل کی جو راہ ہے وہ آپ کو بتادی جاتی ہے۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ علوم جو نبوت کے متعلق ہیں وہ کس طرح پر محفوظ رہیں گے اور آپ کس طرح پڑھ لیں گے۔تو سُنو ! اس کے متعلق ہم پیشگوئی کرتے ہیں۔سنفر نك فلا تنسی۔ہم مجھ کو پڑھا دیں گے اور تو کبھی نہیں بھولے گا۔اب جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور بشارت دی تھی کہ تو ہمارے پڑھائے ہوئے علوم کبھی نہیں بھولے گا۔اس وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرآن مجید پڑھایا اور تمام اسرار و حقائق و معارف و دقائق آپ پر منکشف کئے۔علوم اولین و آخرین عطا فرمائے۔اور اس پر بھی ربّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه 115) کی دعا سکھائی۔اس آیت میں یہ بھی بتایا ہے کہ بھولے گا نہیں۔مگر إِلَّا مَا شَاءَ اللہ بھی اس کے ساتھ 653