نُورِ ہدایت — Page 654
ہے۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ سویا درکھنا چاہئے کہ ضروریاتِ دین اور کلام ربانی جس کا دنیا کو پہنچانا مقصود ہے وہ تو کبھی آپ کو بھول ہی نہیں سکتا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر آمان ہی اُٹھ جاوے۔قرآن مجید خود اس کی تشریح دوسری جگہ کرتا ہے۔ایک جگہ فرماتا ہے۔لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ(بنی اسرائیل87) یعنی اگر ہم چاہتے تو جو کچھ تیری طرف وحی کیا ہے اسے لے جاتے۔مگر ایسا وقوع میں نہیں آیا۔اس لئے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ یا لَئِن شئنا سے یہ مراد نہیں ہو سکتا کہ ایسا وقوع میں بھی آیا۔اور اگر آیا بھی تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی قرآن کریم میں اس کا پتہ ہے۔اس لئے ایک جگہ فرمایا۔فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ ايَتِهِ (الحج 53) یعنی شیطانی القاء کو اللہ تعالی مٹا دیتا ہے۔اور اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے۔اور ایک اور جگہ فرمایا۔يَنحُ اللهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُ الْحَقِّ بِكَلِمَاتِه (الشوری25) اللہ تعالیٰ باطل کو محو کر دیتا ہے اور اپنے کلماتِ حق کو حق ثابت کرتا ہے۔پس معلوم ہوا إِلَّا مَا شَاءَ اللہ سے اگر کوئی مراد ہے تو وہ باطل اور ارادہ و تدابیر شیطانی ہیں جو آپ کی مخالفت کے لئے کی جاتی تھیں۔یہ بھی گویا عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اس کو واقعات سے ملا کر دیکھو کہ کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پڑھایا گیا وہ قائم رہا۔اور دنیا اس کو نہیں بھول سکتی۔قرآن کریم کی وحی آج تک بھی اسی قوت وشان کے ساتھ زندہ اور محفوظ ہے۔پھر اس کو مؤشید کرنے کے لئے فرمایا إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى ( الا علی(8) یعنی یہ اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہے جو ظاہر اور مخفی تمام امور کا پورا علیم وخبیر ہے۔پس یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی دلیل ہے۔اس کے بعد ایک اور دلیل برنگ پیشگوئی فرمائی کہ وَنُيَشِرُكَ لِلْيُسْرَى یعنی تیرے ہر ایک کام میں سہولتیں اور آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔مگی زندگی جس محسر اور تنگی کی زندگی تھی وہ تاریخی اوراق سے عیاں ہے لیکن بعد میں آپ کے لئے جس قدر سہولتیں پیدا ہوئی ہیں وہ بھی ایک ظاہر امر ہے۔ہر کام میں سہولت اور آسانی پیدا ہوگئی اور اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اس کے بعد پھر ایک پیشگوئی فرمائی کہ آپ کا کام تذکیر ہے۔آپ اس نصیحت کو 654