نُورِ ہدایت — Page 56
ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔اور حقیقت حمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض و انوار کا مبدء ہواور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔اور وہی محسن ہے اور اول و آخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ لفظ حمد جو اس آیت میں اللہ ذوالجلال کی طرف سے استعمال ہوا ہے مصدر ہے جو بطور مبنى للمعلوم اور مبنی للمجھول ہے۔یعنی فاعل اور مفعول دونوں کے لئے ہے۔اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کامل طور پر تعریف کیا گیا اور تعریف کرنے والا ہے۔اور اس بیان پر دلالت کرنے والا قرینہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حمد کے بعد ایسی صفات کا ذکر فرمایا ہے جو اہل عرفان کے نزدیک ان معنی کو مستلزم ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے لفظ حمد میں ان صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو اس کے ازلی ٹور میں پائی جاتی ہیں۔اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 129-130) حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب اقتدار شریف ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہمارا وہ ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا اور ذلیل لوگوں کو عزت بخشنے والا ہے۔اور وہ محمودوں کا محمود ہے ( یعنی وہ ہستیاں جو خود قابل حمد ہیں وہ سب اس کی حمد میں لگی ہوئی ہیں)۔اکثر علماء کے نزدیک لفظ شکر حمد سے اس پہلو میں فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے کہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح لفظ حمد سے اس بات میں مختلف ہے کہ مدح کا اطلاق غیر اختیاری خوبیوں پر بھی ہوتا ہے۔اور یہ امر صیح و بلیغ علماء اور ماہر ادباء سے مخفی نہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کیا ہے نہ کہ شکر اور مدح سے کیونکہ لفظ حمد 56