نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 625 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 625

اُسی سے خاص کرنا (۔فرمایا: ) پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔اوّل ذات کے لحاظ سے توحید۔یعنی یہ کہ اُس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا۔یعنی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ) اور تمام کو بالکۃ الذات اور باطلة الحقیقت خیال کرنا ( یعنی ہر چیز اپنی ذات میں فنا ہونے والی ہے اور حقیقت میں کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔) دوم صفات کے لحاظ سے توحید۔یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کے کسی میں قرار نہ دینا ( پالنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت کے لائق بھی صرف وہی ہے۔اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں۔( جولوگ بظاہر فائدہ دیتے ہیں، دنیاوی فائدے لوگوں سے پہنچتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ذریعہ بنایا ہوا ہے اُن سے فائدے بھی پہنچتے ہیں ، وہ پرورش کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں ) یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا ( اُن کے بارے میں یہ سمجھنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ وہ خود اس چیز کو دینے کے مالک ہیں۔اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے اور یہ لوگ ذریعہ ہیں۔) ( فرمایا : ” تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید۔یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا ( یعنی یہ جو توحید اور محبت ہے اس میں عبودیت کے جو شعار ہیں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا) اور اسی میں کھوئے جانا۔“ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350) صرف یہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کا شریک نہیں بنانا بلکہ اس میں کھوئے جانا، اس میں ڈوب جانا ، خدا تعالیٰ کی ذات میں اپنے آپ کو فنا کر لینا۔پس یہ باتیں اگر ایک مومن میں ہوں تو وہ خدا تعالیٰ کو یا در کھنے کا حق ادا کرنے والا کہلا سکتا ہے، تقویٰ پر چلنے والا کہلا سکتا ہے۔تقویٰ کے کمال کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ یہ فرمایا ہے کہ کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ انسان کا اپنا وجود ہی نہ رہے۔پھر فرمایا کہ اصل میں یہی تو حید ہے۔جب انسان اس کمال کو حاصل کر لیتا ہے کہ اپنا 625