نُورِ ہدایت — Page 52
نے جلال الہی کو ظاہر کیا اور ظالموں کو چوپایوں اور مویشیوں کی طرح قتل کیا۔اسی طرح مسیح موعود اسم احمد کا وارث ہوا جو مظہر رحیمیت و جمال ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نام اس کے لئے اور اس کے متبعین کے لئے جو اس کی آل کی طرح بن گئے اختیار کیا۔پس مسیح موعود اپنی جماعت سمیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی صفت رحیمیت اور احمدیت کا مظہر ہے۔تا خدا کا قول وَآخَرِيْنَ مِنْهُمُ ( الجمعة 4) پورا ہو ( یعنی صحابہ جیسی ایک اور قوم بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملی )۔اور الہی ارادوں کو پورا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔نیز رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مظاہر پیدا ہونے کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے۔صفتِ رحمانیت ورحیمیت کو بسم اللہ کے ساتھ وابستہ کرنے کی یہی وجہ ہے تا وہ محمد واحمد دونوں ناموں پر اور ان دونوں کے آئندہ آنے والے مظاہر پر دلالت کرے یعنی صحابہ اور مسیح موعود پر جو رحیمیت اور احمدیت کے لباس میں آنے والے تھے۔چونکہ ہمارے نبی خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء برگزیدوں کے برگزیدہ اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ ظلی طور پر آپ میں اپنی یہ دونوں بڑی صفات جمع کردے۔پس آپ کو محمد اور احمد کے نام عطا کئے تا یہ دونوں نام صفتِ رحمانیت اور صفت رحیمیت کے لئے بمنزلہ طیل کے ہوں۔اسی لئے اس نے اپنے قول إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ کامل عبادت گزار کو رب العالمین کی صفات عطا کی جاتی ہیں جبکہ وہ فنافی اللہ عابدوں کے مقام تک پہنچ جائے۔اور آپ کو معلوم ہے کہ اخلاق الہیہ کا ہر کمال اللہ تعالیٰ کے رحمان و رحیم ہونے پر منحصر ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں صفات کو بسم اللہ کے ساتھ مخصوص کر دیا۔اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ محمد اور احمد نام "الرحمان الرحیم " کے مظہر ہیں اور ہر کمال جو ان دونوں صفات الہیہ میں مخفی تھا وہ علیم و حکیم خدا کی طرف سے ( محمد اور احمد کے ) دونوں ناموں میں ودیعت کر دیا گیا ہے پس بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ناموں 52