نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 579 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 579

پس واقعۂ فرشتے تمثل بھی اختیار کر لیتے ہیں اور بظاہر انسان کی شکل میں نظر آتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا: فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا (مريم 18) کہ فرشتے نے حضرت مریم کے لئے ایک نہایت ہی خوبصورت اور متوازن جسم والے انسان کا روپ دھارا اور ان پر ظاہر ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مختلف وقتوں میں صحابہ نے بھی ایسے نظارے دیکھے۔چنانچہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے تو ایک اجنبی مجلس میں حاضر ہوا اس نے السلام علیکم کہا اور کچھ سوالات کئے اور پھر حضور سے اجازت لے کر رخصت ہوا۔صحابہ بہت متعجب ہوئے کیونکہ وہ باہر سے آیا تھا لیکن اس کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں تھے، نہ ہی کس قسم کی گرد تھی یعنی سفر کی کوئی علامتیں نہیں تھیں۔نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ کپڑے پہنے ہوئے تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے تعجب کو دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا تم جانتے ہو یہ کون تھا؟ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ! ہمیں تو کوئی علم نہیں۔آپ نے فرمایا یہ جبرئیل تھا جو تمہیں تعلیم دینے کی خاطر مجھ سے سوال کر رہا تھا۔چنانچہ بعض صحابہ باہر نکلے اور دور تک گلیوں میں دیکھتے رہے لیکن کسی انسان کا کوئی نشان نہیں ملا۔( صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی علن عن الایمان والاسلام والاحسان) رض پس جب ایک دفعہ یہ فرشتے صحابہ پر نازل ہوئے تو پھر یہ سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے صحابہ کا ساتھ نہیں چھوڑا اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ان کی ولایت کا رض تعلق جاری رہا۔انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔چونکہ صحابہ بے حد منکسر المزاج تھے اور خائف رہتے تھے کہ کہیں دوسرے لوگ ان کے اس تعلق کی اطلاع پاکر ان کے مقام کے متعلق زیادہ حسن ظنی نہ شروع کر دیں، اس لیے صحابہ عموماً اپنی واردات کو بیان نہیں کیا کرتے تھے۔لیکن بعض ایسے اجتماعی رنگ کے واقعات بھی ہیں جن میں دوسرے کئی لوگ گواہ ہوئے 579