نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 535 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 535

۔ایک مثال دے دیتا ہوں تا کہ نیچے بھی سمجھ جائیں۔جو شخص دنیا کی حسنات سے کلی طور پر محروم ہو جاتا ہے اس کے اوپر روحانی حکم لگتا ہی نہیں۔اس کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔اس لئے جہاں تک ایک مجنون کی دُنیوی حسنات کے بارے میں محنت اور کمائی کا تعلق ہے یا اس کی کوشش اور مجاہدہ کا سوال ہے وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ پاگل ہے۔اس لئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسم اور زندگی بخشی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھائی دئیے، اس کو دوست دئیے اور اس کے ارد گرد خیال رکھنے والے انسان بنائے۔چنانچہ وہ اس کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں تک اس کی اپنی طاقتوں کا سوال ہے۔اس کی کسی طاقت کے اوپر کوئی حکم نہیں چلا سکتا۔وہ اپنے جنون میں کسی آدمی کو قتل کر دیتا ہے تو حج کہتا ہے کہ پاگل تھا اس سے قتل ہو گیا۔ظلم ہو گیا لیکن اس کے اوپر کوئی الزام نہیں۔پس جو شخص مجنون ہے اس کے لئے دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے بند ہیں اور چونکہ دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے اس کے لئے بند ہیں اسی لئے اُخروی حسنات کی کمائی کا دروازہ بھی اس کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔پس ہم ایسے شخص کو مرفوع القلم کہہ دیتے ہیں۔ہم اس پر نہ نیکی کاحکم لگاتے ہیں اور نہ بدی کا ، نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس نے مالی قربانی دی اور نہ یہ کہ اُس نے مالی قربانی نہیں دی مثلاً اگر کوئی مجنون یا مرفوع القلم آدمی اپنے باپ کی تجوری کو گھلا پائے اور وہاں سے دس ہزار روپے نکال کر جنون کی حالت میں کسی مستحق کو دے دے تو یہ نیکی شمار نہیں ہو گی کیونکہ اس نے جنون میں آ کر ایسا کیا ہے یہ نیکی نہیں جنون ہے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے اور قرآن کریم نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ڈ نیوی حسنات کے بغیر اخروی حسنات کے سامان پیدا نہیں ہوتے ، اس لئے کہ اُخروی حسنات کے سامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں دُنیوی نعمتوں کو خرچ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔جس کے پاس نعمت ہی کوئی نہیں وہ خرچ بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 535