نُورِ ہدایت — Page 536
نے فرمایا ہے کہ جو شخص نامرد ہے وہ پاک باز ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا۔کیونکہ اسے طاقت ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی طاقتیں اور صلاحتیں بخشی ہیں اور ان کے اوپر اُخروی نعمتوں کا انحصار ہے، یہ طاقتیں ماں ہیں اُخروی نعمتوں کے حصول کی ، ان کے بغیر کوئی اُخروی نعمت نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مما رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ( البقرة 4) اور بعض دوسری آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اور ہر طاقت اور صلاحیت سے یہ مطالبہ فرمایا ہے کہ وہ میری راہ میں قربان ہو جائے۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه 221 تا223) اسی طرح حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 1977ء میں فرمایا: ہم اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتا ہے اور یہ عطا ایک خاص مقصد کے لئے انسان پر نازل ہوتی ہے۔انسان کا ذہن ہے، انسان کی طاقت ہے، انسان کی استعداد ہے، اخلاقی طاقتیں اور روحانی قوتیں ہیں جو انسان کو دی گئی ہیں۔غرضیکہ انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ ایک خاص مقصد کی خاطر اسے ملا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے فرمایا ہے انسان میں سے دو گروہ بن جاتے ہیں۔ایک وہ گروہ ہے کہ جو کچھ انہیں ملتا ہے اسے وہ صرف مَتَاعُ الحيوة الدُّنْيَا وَزِينتها سمجھتے ہیں اور اس سے آگے نہیں بڑھتے۔خدا نے جو دنیوی سامان دیتے ہیں ان کا استعمال محض دنیا کے لئے اور دنیا کی اغراض کی خاطر کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عطا کو دنیا کی زینت کے لئے سمجھا جاتا ہے۔اسی کی طرف دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرتے ہوئے فرما ياضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا - پھر فرمایا ایک دوسرا گروہ ہے جو عقل رکھتا ہے اور اس کا استعمال کرتا ہے اس گروہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا آفَلا تَعْقِلُونَ یہ لوگ عقل سے کام کیوں نہیں لیتے لیکن عقل سے 536