نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 509 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 509

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حدیث میں آیا ہے کہ جب تم دنبال کو دیکھو توسورۃ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو اور وہ یہ ہیں الحمدُ للهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَ لَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا۔فَمَا لِيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِن لَّدُنْهُ وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَاعِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ اِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال سے کس گروہ کو مراد رکھا ہے۔اور عوج کے لفظ سے اس جگہ مخلوق کو شریک الباری ٹھہرانے سے مراد ہے جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے اور اسی لفظ سے فَيْجِ اعوج مشتق ہے اور فَيْجِ آغوج سے وہ درمیانی زمانہ مراد ہے جس میں مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو بعض صفات میں شریک الباری ٹھہرا دیا۔اس جگہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر دنبال کا بھی کوئی علیحدہ وجود ہوتا تو سورہ فاتحہ میں اس کے فتنہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا اور اس کے فتنہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی علیحدہ دعا ہوتی۔مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ یعنی سورہ فاتحہ میں صرف مسیح موعود کوایذا دینے سے بچنے کے لئے اور نصاریٰ کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی گئی ہے حالانکہ بموجب خیالات حال کے مسلمانوں کا دنجال ایک اور شخص ہے اور اس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑھ کر ہے۔تو گویا نعوذ باللہ خدا بھول گیا کہ ایک بڑے فتنہ کا ذکر بھی نہ کیا اور صرف دو فتنوں کا ذکر کیا ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو یہودیوں کی طرح ایذا دینا دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا۔یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دوفتنوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے۔(1) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کافر قرار دینا، اس کی توہین کرنا، اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا، اس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہم میں انہیں باتوں کی طرف اشارہ ہے۔509