نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 482 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 482

استحقاق پیدا کر رہی ہو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قبولیت کا اور یہاں جو پہلے بیان ہوا ہے وہ یہی ہے کہ ذکر اور فکر ہر دو سے تعلق رکھنے والی عبودیت کے جو تقاضے ہیں جب وہ پورے کئے جائیں تب دعا قبول ہوتی ہے۔اگر ایک شخص ساری رات جاگ کے دعا کرے اور ہر رات جاگ رہا ہوا اپنی زندگی میں لیکن عمل نہ کرے خدا تعالیٰ کے احکام پر اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔دعا کی قبولیت کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں ان آیات میں اور یہی چیز میں اس وقت آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔بیان کی گئی ہیں یہ شرائط شروع میں بھی اور پھر آخر میں بھی۔پہلے تو یہ کہا کہ ذکر کرنے والے اور تفکر کرنے والے جو ہیں وہ جسم کے لحاظ سے، بدن کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور قلب وروح کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہیں اور یہاں جو ذ کر اور فکر تھا اس کی روح یہ ہے کہ ہر وقت خدا کے ذکر میں مشغول رہنا اور خدا تعالیٰ کی جو مصنوعات ہیں جو خلق ہے اس سے دل کا ، ذہن کا، روح کا صحیح استدلال قائم کرنا کیونکہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف پوائنٹ (Point) کررہی ہے۔ایک نشان ہے جس طرح سڑکوں پر نشان ہوتا ہے۔یہ راستہ جاتا ہے لاہور کی طرف۔“ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہر شے جو ہے وہ نشان ہے کہ یہ راستہ جاتا ہے خدا کو پہچاننے عرفان اور معرفتِ الہی کی طرف اور ذکر کرنا تفکر فی مصنوعات کرنار بوبیتِ خداوندی کا اعتراف کرنا یہ شرائط قبولیت دعا ہیں۔ذکر اللہ میں ہمیشہ مشغول رہنا۔دل اور دماغ اور روح کے ساتھ تفکر کرنا یعنی معرفت حاصل کر کے اور معرفت اور اس عرفان کا احساس دل اور روح میں بیدار رہنا۔معرفت یہ نہیں ہے کہ کوئی چیز ملی اور جیب میں رکھ لی۔معرفت تو ایک احساس ہے جو روح میں پیدا ہوتا ہے جو احساس ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالی بڑی عظمتوں والا خدا تعالیٰ بڑے جلال والا، خدا تعالی بڑے حسن والا نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے۔ہر چیز پر وہ قادر ہے۔کوئی چیز اس کے سامنے آن ہوئی نہیں۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی دنیا کی طاقت اس کے منصوبوں کو نا کام نہیں کرسکتی۔وہ تمام صفات باری جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی بیان کی ہیں ان سب کو اپنے ذہن میں، اپنے دل میں، اپنے مائنڈ ( Mind ) میں، قلب میں 482