نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 417 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 417

کلام کے متعلق یہ فرق کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی مومنوں کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ یعنی وہ احکام الہیہ کی اطاعت میں ایک ذراسی غفلت اور سستی بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ ادھر اللہ تعالیٰ کا حکم سنتے ہیں اور اُدھر کہتے ہیں سمعْنَا وَأَطَعْنَا ہمارے رب !ہم نے تیرا حکم سن لیا اور ہم اس کے دل سے فرمانبردار ہیں۔ا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ غُفْرَانَكَ دراصل اِغْفِرُ غُفْرَانَكَ ہے۔یعنی غُفْرَانَكَ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔اور معنی اس کے یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی بخشش سے حصہ دے اور ہمیں معاف فرما۔چونکہ گزشتہ آیات میں تزکیۂ نفس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی تھی۔اس لئے اللہ تعالی نے بتایا کہ اب محمد رسول اللہ علیم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ایک ایسی جماعت پیدا ہوگئی ہے جو سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ کہنے والی ہے اور جس کا سر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر حالت میں جھکا رہتا ہے۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس کی بجا آوری کی انسان میں طاقت نہ ہو۔یا اُس کی استعداد اور قابلیت سے بالا ہو۔پس جبکہ اس کی طرف سے ہمیشہ ایسے ہی احکام نازل ہوتے ہیں جن پر عمل انسانی مقدرت سے باہر نہیں ہوتا تو لازماً سب ذمہ داری انسان پر ہی عائد ہوتی ہے اور انعامات الہیہ کا بھی وہی مستحق ٹھہرتا ہے اور عدم تعمیل کی بنا پر سزا کا بھی وہی مستحق قرار پاتا ہے۔اسی لئے آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ یعنی انسان اگر اچھا عمل کرے گا تو اس کا فائدہ بھی اسے ہی پہنچے گا اور اگر بُرا کام کرے گا تو اس کا نقصان بھی اُسے ہی ہوگا۔ضمناً اس آیت میں اس مضمون کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جو کام اس زمانہ میں امت محمدیہ کے سپرد ہوا ہے وہ اس کی طاقت اور قابلیت کے عین مطابق ہے اور ایک دن وہ 417