نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 33 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 33

ہے جیسے فرمایا الحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی ساری خوبیاں اس خدا کے لئے سزا وار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والا ہے۔آل محمن وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے۔الرّحِیم اعمال کا پھل دینے والا ملِكِ يَوْمِ الدِّين جزا سزا کے دن کا مالک۔ان چار صفتوں میں کل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جیو یعنی ارواح اور پر مانویعنی ذرات خود بخود ہیں اور جیسے پر میشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں اور ارواح اور ان کی کل طاقتیں، گن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور باوجود اس کے کہ ان میں قوت اتصال اور قوت انفصال خود بخود پائی جاتی ہے وہ آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے ایک پرمیشر کے محتاج ہیں۔غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رَبُّ الْعَلَمِینَ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف الرحمن کے لفظ میں اشارہ ہے اور یہ فرقہ سناتن دھرم والوں کا ہے گو وہ مانتے ہیں کہ پرمیشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی مرد بنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتات وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے کرموں کی وجہ سے۔الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن سے منکر ہیں۔وہ خدا جس نے زمین ، سورج ، چاند ستارے وغیرہ پیدا کئے اور ہوا پیدا کی تا کہ ہم سانس لے سکیں اور ایک دوسرے کی آواز سن سکیں اور روشنی کے لیے سورج چاند وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پیدا کیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کا وجود اور نام ونشان بھی نہ تھا۔تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے؟ کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مار سکتا ہے؟ کیا کوئی دعوی کر سکتا ہے کہ یہ سورج چاند ستارے ہوا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے؟ غرض خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے 33