نُورِ ہدایت — Page 394
ہے ) اس لئے ضروری ہوا کہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہی استغفار ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 217۔ایڈیشن 1985 ، مطبوعہ انگلستان) استغفار کے مضمون کی وضاحت پہلے تفصیل سے ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیض کی روشنی کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے استغفار کی ضرورت ہے اور یہ استغفار ہی عبادت ہے اور اس سے طاقت عطا ہوتی ہے۔پھر آیتہ الکرسی میں جو شفاعت کا مضمون بیان ہوا ہے اس کو بیان فرماتے ہوئے یہ نکتہ آپ نے بیان فرمایا کہ ہر انسان دوسرے کے لئے جب دعا کرتا ہے تو یہ بھی ایک طرح کی شفاعت ہے۔اور یہ ایک مومن کی صفت ہونی چاہئے جو ہمیشہ وہ کرتا رہے۔آپ فرماتے ہیں: ”خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہوسکتی۔(اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔) قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو جائے یا کوئی بلاٹل جائے۔“ ( یعنی جس مقصد کے لئے کسی دعا کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کرے کہ وہ مقصد اس کا پورا ہو جائے۔اگر مصیبت اور بلا ہے تو وہ بلائل جائے۔) فرمایا کہ "پس قرآن شریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دعا کرے کہ اس کو وہ مرتبہ حاصل ہو۔یہی حقیقت شفاعت ہے۔سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا دُور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے“۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 463) پھر آپ نے فرمایا کہ چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے کہ اگر چہ شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دعا کرنے میں لگے رہو۔اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے“۔(ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا ایک دوسرے پر حق ہے۔اصل میں شفاعت کا لفظ شفع سے لیا گیا ہے۔شفع بجفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد 394